انوارالعلوم (جلد 14) — Page 301
انوار العلوم جلد ۱۴ مستورات سے خطاب رض برکات حاصل کرنے والے صحابہؓ ، وہ اس بات کو نہ سمجھے اور پیچھے آنے والے جان گئے ۔ تعجب ہے کہ حضرت عمر کو موسیٰ علیہ السلام کی طور پر جانے والی مثال تو سوجھ گئی مگر عیسی کا ذکر یاد نہ رہا۔ دوسری عجیب بات یہ ہے کہ مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ کی آیت اُسی صورت میں بطور دلیل ہو سکتی ہے جبکہ پہلے سب رسول فوت ہو گئے ہوں تو یہ آیت جب بطور دلیل ہوئی اور کوئی نہیں کہتا کہ حضرت عیسی تو فوت نہیں ہوئے یہ اس بات کا بین ثبوت ہے کہ صحابہ میں سے کسی کے دماغ میں یہ بات نہ تھی ۔ اگر کسی صحابی کے دماغ میں حضرت عیسی کی زندگی کا خیال ہوتا تو وہ مر جاتا یہ سنکر کہ عیسی زندہ ہوں اور رسول کریم ﷺ فوت ہو جائیں ۔ ایک شاعر نے صحابہ کے دلی خیالات کو ان اشعار میں نہایت خوبصورتی سے قلمبند کیا ہے۔ كُنتَ السَّوَادَ لِنَاظِرِى فَعَمِيَ عَلَيْكَ النَّاظِرُ مَنْ شَاءَ بَعْدَكَ فَلْيَمُتْ فَعَلَيْكَ كُنتُ أَحَاذِرُ تو ہماری آنکھوں کی پتلی تھا۔ اب جہان تیرے جانے سے ہماری نظروں میں تاریک ہے۔ تیرے بعد جو چاہے مرے ہمیں تو صرف تیرا ہی خطرہ تھا۔ رہ تھا۔ جب تو نہیں تو جہان میں کچھ بھی نہیں ۔ یہ ایک ایسا اہم واقعہ ہے کہ اس کے بعد کوئی خیال ہی نہیں کر سکتا کہ عیسیٰ علیہ السلام زندہ ہیں کوئی عیسائی کرے تو کر سکتا ہے۔ اس کے بعد پھر ایک اختلاف پیدا ہوا عبداللہ بن سبا سے ۔ اُس نے یہ عقیدہ پھیلا نا شروع کیا کہ وہ خدا جس نے قرآن کریم نازل کیا تم کو پھر اس مقام پر لائے گا تو صحابہؓ نے اُس کو مرتد خیال کیا ۔ اگر عیسی علیہ السلام زندہ ہیں تو ہم کہہ سکتے ہیں کہ رسول کریم بھی زندہ ہیں ۔ جو آیت ابو بکر نے پڑھی اس کے تو یہی معانی ہو سکتے ہیں کہ یا تو عیسی صلى الله عروسه کو رسول نہ مانا جائے نہ مانا جائے اور یا پھر رسول کریم ﷺ پہلے اور عیسیٰ علیہ السلام بعد میں ۔ مگر یہ سب پر واضح ہے کہ عیسیٰ علیہ السلام پہلے آئے اور وہ رسول بھی تھے ۔ پس اس آیت کے موجب وہ فوت بھی ہو گئے ۔ کیونکہ مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ - اس آیت سے ظاہر ہے کہ نبی کریم ﷺ سے پہلے کے تمام رسول فوت ہو چکے ہیں ۔ پس صحابہ کی گواہی اور قرآن مجید کے بعد اور کونسا گواہ ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے یہ ایک موٹی دلیل پیش کی ہے ۔ یا د رکھیں تین آیتیں قرآن مجید کی ہیں جو عورتیں یاد کر لیں پھر کوئی اُن کا مقابلہ نہیں کر سکتا۔ ایک تو وہ آیت جوابو بکر نے پڑھی مَا مُحَمَّدٌ إِلَّا رَسُولٌ قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلِهِ الرُّسُلُ - اور دوسری آیت قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے سورہ مائدہ کے آخری رکوع میں فرمایا ہے