انوارالعلوم (جلد 14) — Page 299
انوار العلوم جلد ۱۴ مستورات سے خطاب الله الله قرآن غلط ہے یا پڑھنے والے کی اپنی عقل ؟ پس اِسی طرح پر احمدی عورت جان لے کہ عیسی کے متعلق قرآن شریف میں اور حدیث میں صفائی سے یہ موجود ہے کہ عیسی جو پہلے تھے وہ دوبارہ نہیں آئیں گے بلکہ آنے والا اسی اُمت میں سے ہوگا ۔ پس پہلی چیز جس کو دیکھنا چاہئے وہ یہ ہے کہ خدا کا کلام اور اس کے رسول کا کلام کیا بتا تا ہے ۔ رسول کریم ﷺ کے ارشادات کو وہی صلى الله لوگ جان سکتے تھے جنہوں نے اپنی زندگیاں رسول کریم ﷺ کی خدمت میں گا رمت میں گزاریں یعنی صحابہ رسول کریم - جبيبا جیسا کہ حدیثوں سے ثابت ہے رسول کریم ﷺ کی وفات کے بعد صحابہ میں ایک شور پڑ شور پڑ گیا کیونکہ رسول کریم ﷺ کی وفات اچانک ہوئی ۔ ان صحار کو خبر نہ تھی کہ آپ کی وفات اس قدر جلدی ہو جائے گی ۔ وفات کے قریب حضورانور علیہ السلام پر یہ سورۃ نازل ہوئی ۔ إِذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ ) وَرَأَيْتَ النَّاسَ يَدْخُلُوْنَ فِي دِينِ اللَّهِ أَفْوَاجًا فَسَبِّحُ بِحَمْدِ رَبِّكَ وَاسْتَغْفِرُهُ إِنَّهُ كَانَ تَوَّابًا ہے یعنی اے لوگو! جب تم دیکھو لوگ فوج در فوج اسلام میں داخل ہونے لگ گئے تو خدا تعالیٰ کی تسبیح کرو ساتھ حمد اپنے رب کی ۔ اور غفران و حفاظت مانگو یقیناً وہ ہے رجوع برحمت ہونے والا ۔ یعنی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بتلا یا کہ تو خدا کے قُرب میں حاضر ہونے والا ہے اور کامیابی کا زمانہ آ گیا اس پر صحابہ بہت خوش ہوئے مگر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ رو پڑے اور اس قدر روئے کہ گھنگی بندھ گئی ۔ پھر حضرت ابوبکر سنبھل کر بیٹھ گئے اور کہنے لگے یا رَسُولَ اللہ ! ہم اپنی جانیں ، اپنے ماں باپ ، اپنے بیوی بچوں کی جانیں قربان کرنے کو تیار ہیں ۔ لوگ حیران تھے اور کہتے تھے کہ صلى الله عروسة ۔ بڑھے کی عقل کو کیا ہو گیا ہے۔ لیکن رسول کریم ﷺ نے فرمایا اس کو ابوبکر نے خوب سمجھا۔ رسول کریم ا حضرت ابو بکر سے بہت محبت کرتے تھے چنانچہ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ مجھے سب سے زیادہ پیارا ابو بکڑ ہے اگر خدا کے سوا کسی کو خلیل بنانا جائز ہوتا تو ابوبکر کو بناتا۔ پھر آپ نے فرمایا سب سب کا کھڑکیاں بند ہو ہو جائیں جا گی صرف ابوبکر کی کھڑ کی کھلی رہے گی ہے۔ ایسا فرمانا بطور پیشگوئی کے تھا کہ ابو بکر خلیفہ ہو کر نماز پڑھانے کیلئے کھڑ کی سے مسجد میں داخل ہوا کریں گے ۔ پس رسول کریم ع کو جو محبت حضرت ابو بکر رت ابو بکر سے تھی اور جو ابو بکر کو رسول کریم سے تھی اس صلى عروسه سے پتہ چلتا ہے کہ حضرت ابوبکر کا درجہ کس قدر بلند تھا۔ لوگوں نے حضرت ابو بکر سے پوچھا آپ اس بشارت نصرت پر کیوں روئے؟ آپ نے کہا خدا کے نبی دین پھیلانے کیلئے آتے ہیں جب دین کی ترقی ہوگئی تو آپ بالضرور اپنے مولیٰ کے حضور واپس چلے جائیں گے۔ اسی