انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 239 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 239

انوار العلوم جلد ۱۴ مغربی ممالک میں تبلیغ اسلام کے سلسلہ میں اہم ہدایات انہیں کھلے بندوں کہہ دیا جائے کہ سچی تعلیم یہی ہے اور اگر وہ در اگر وہ مسلمان ہونے کیلئے تیار ہوں تو پھر بھی انہیں صاف طور پر پر بتاد بتا دیا جائے کہ انہیں اسلام کی ان ان تعلیموں پر عمل کرنا پڑے گا۔ میں یہ تو نہیں کہتا کہ جب تک پہلے دن ہی کوئی شخص اسلام کی تمام تعلیموں پر عمل نہ کرنا شروع کر دے اسے احمدیت میں داخل نہ کرو مگر میں یہ ضرور کہوں گا کہ انہیں صاف طور پر کہہ دو کہ گو آج تم میں یہ باتیں پائی جاتی ہیں مگر تمہیں ان باتوں کو چھوڑنا پڑے گا۔ اوّل تو ہم تم سے یہی امید کرتے ہیں کہ تم آج ہی ان باتوں کو چھوڑ دو گے لیکن اگر آج نہیں چھوڑ سکتے تو مہینہ، دو مہینے ، تین مہینے تک چھوڑ دو اس سے زیادہ انتظار نہیں کیا جا سکتا ۔ پس انہیں صاف طور پر کہہ دیا جائے کہ تم اسلام کی تعلیم کو اگر سچے طور پر ماننے کیلئے تیار ہو تو مانو ورنہ نہ مانو ۔ اگر اس طرز پر کام کیا جائے اور دس سال تک بھی کوئی شخص مومن نہ ملے تو کوئی حرج نہیں ، بیس سال تک بھی کوئی مومن نہ ملے تو کوئی حرج نہیں ۔ تمیں سال تک بھی کوئی مومن نہ ملے تو کوئی حرج نہیں لیکن اگر اس قدر وضاحت سے اسلام کو پیش کر دینے کے بعد تیس سال کے لمبے انتظار کے بعد تمہیں ایک مومن بھی مل جاتا ہے تو پھر وہاں ٹھہرنے کی ضرورت نہیں ہو گی بلکہ وہ شخص خود وہاں کیلئے معلم ، ہادی اور راہنما کا کام دے گا۔ لیکن اگر اس قسم کا ایک آدمی پیدا نہیں کیا جاتا اور نام کے ہزاروں مسلمان پیدا کر دیئے جاتے ہیں تو ان ہزاروں آدمیوں کی موجودگی میں بھی وہاں سے واپس آنا خطرہ سے خالی نہیں ہو سکتا۔ ہمارے مبلغوں کو اچھی طرح یاد رکھنا چاہئے کہ مسلمانوں میں آج جس قدر فرقے پائے جاتے ہیں ان میں سے ہر فرقہ کسی نہ کسی کمزور مبلغ کی تبلیغ کا نتیجہ ہے۔ اُس نے تبلیغ کی مگر تبلیغ میں کمزوری دکھائی اور بعض باتوں کو صحیح رنگ میں پیش نہ کیا جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کچھ لوگ اُس کے گرد جمع ہو گئے اور ان لوگوں کے اثر سے اور لوگ پیدا ہو گئے اور ہوتے ہوتے وہ ایک فرقہ بن گیا۔ اس طرح اس فرقہ پر جس قدر ملامت ہوتی ہے اس کا ایک حصہ اُس مبلغ کو بھی ملتا ہے جس کی کمزوری کے نتیجہ میں وہ فرقہ پیدا ہوا۔ آخر کوئی نہ کوئی کمزور مبلغ تھا جس نے بعض باتوں میں کمزوری دکھائی اور لوگوں کو ڈھیل دے دی ۔ اُس نے سمجھا کہ یہ معمولی بات ہے مگر لوگوں کیلئے اُس کی کمزوری مہلک ثابت ہوئی اور وہ ایک نئے فرقہ کے رنگ میں رونما ہو گئی ۔ آج جتنے شقاق مسلمانوں میں نظر آتے ہیں یہ بعض مبلغین کی کمزوری کا ہی نتیجہ ہیں، اسی طرح جو شقاق آج ہندو مذہب میں نظر آتا ہے یہ بھی کسی ہندو مبلغ کی کمزوری کا نتیجہ تھا گو ہندو مذہب