انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 220

انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید ایک قطرہ ہے۔ کر آپ نے لوگوں کو مصافحہ کا موقع دیا۔ اُس وقت ہجوم میں پانچ چھ سو کے قریب لوگ تھے ۔ ہجوم کی زیادتی اور محبت کے وفور کی وجہ سے مصافحہ کیلئے رستہ ملنا بعض کو مشکل ہو گیا۔ ایک زمیندار سے دوسرے زمیندار نے پوچھا کیوں بھئی مصافحہ کر لیا۔ اُس نے جواب دیا ہجوم بہت ہے اور دھکے لگتے ہیں، میں نے تو ابھی مصافحہ نہیں کیا۔ وہ کہنے لگا دھکے کیا ہوتے ہیں ۔ اگر تمہاری ہڈیوں سے بوٹیاں بھی الگ ہو جائیں تو پروا نہیں ، ہجوم میں گھس جاؤ اور مصافحہ کر آؤ، یہ دن تمہیں پھر کہاں نصیب ہو سکتے ہیں ۔ صلى الله عروسه صلى الله علی وہ ایمان تھا اور وہ اخلاص تھا جو حقیقی محبت پر دلالت کرتا تھا۔ یعنی خدا کی طرف سے آنے والے کے ہاتھ سے اپنا ہاتھ چھونے کیلئے اگر گوشت ہڈی سے جُدا ہو جاتا ہے تو جدا ہو جائے کیونکہ یہ دن روز روز میسر نہیں آسکتے ۔ کاش! ہم ان لوگوں کے دلوں کی کیفیت کا احساس کر سکتے جو محمد ﷺ کے بعد اور ر حضرت حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ سے پہلے تیرہ سو سال کے عرصہ میں ہوئے ، کاش! ہم اس درد کو جانتے ، کاش! ہم اس گریہ وزاری پر اطلاع رکھتے جو درد اور جو گر یہ وزاری ان لوگوں کو اس حسرت میں پیدا ہوتی کہ کاش وہ محمد ﷺ کو نہیں، آپ کے پاؤں کو نہیں بلکہ آپ کے پاؤں کی خاک کو ہی چھونے کا فخر حاصل کر سکتے ۔ اگر یہ چیز ہمارے سامنے آ جائے تو شاید ہمیں شرمندگی پیدا ہو، شاید ہمارے دلوں میں بھی احساس ہو کہ ہم نے کتنی بڑی چیز کی ناقدری کی ۔ خدا تعالیٰ نے ایک آواز ہمارے لئے بلند کی ، اس نے ایک ہاتھ ہماری طرف لمبا کیا اور ہمیں موقع دیا کہ ہم پھر محمد ﷺ کے صحابہ کا مقام حاصل کریں ، پھر ہم اپنے خدا کو مل سکیں لیکن افسوس ہم نے اس کی قدر نہ کی اس کی قیمت کو نہ پہچانا اور اسی طرح گزر گئے جس طرح بازار میں سے کوئی خربوزوں کے ڈھیر اور آموں کے ٹوکروں پر سے گزر جاتا ہے۔ نہیں ہماری جماعت کو چاہئے کہ وہ پہلے اس چیز کوسمجھے کہ وہ ہے کیا ؟ جب تک اس مقام کو پس وہ نہیں سمجھتی ، اُس وقت تک اسے اپنے کاموں میں کامیابی حاصل نہیں ہو سکتی ۔ تحریک جدید تو ایک قطرہ ہے اُس سمندر کا جو قربانیوں کا تمہارے سامنے آنے والا ہے جو شخص قطرہ سے ڈرتا ہے وہ سمندر میں کب گو دے گا ۔ پانی کے قطرے سے تو وہی ڈرتا ہے جسے ہلکے ( باؤلے ) کتے یعنی شیطان نے کاٹ لیا ہو ورنہ بھی تندرست بھی قطرے سے ڈرا کرتا ہے؟ تندرست اگر ڈرسکتا ہے تو سمندر سے۔ کیونکہ وہ خیال کرتا ہے کہ نہ معلوم میں اس میں تیر سکوں یا نہ تیر