انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 217 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 217

انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید ایک قطرہ ہے۔ جب وہ بڑا ہوتا ہے، جب وہ یتیم کے طور پر کسی گھر میں پالا جاتا ہے، جب اُس کے پیٹ میں درد ہوتا ہے اور وہ تکلیف کا اظہار کرتا ہے تو مالکہ اسے ڈانٹ کر کہتی ہے بے شرم بے حیا! روٹی کھانے کیلئے آ موجود ہوتا ہے اور کام کے وقت پیٹ درد شروع ہو جاتا ہے۔ جب اس پر ملیریا کا حملہ ہوتا ہے، جب اس کی لاتوں اور ہاتھوں میں درد ہو رہا ہوتا ہے اور اس کی مالکہ اسے مار کر کہتی ہے ہے بچہ بچہ کو کو کھلا کھلا ۔ اور جب وہ تکلیف کا اظہار کرتا ہے ہے تو تو وہ وہ اور اور تمھیاں مچھیاں سے مارتی اور کہتی ہے نامعقول بہانے بناتا ہے۔ تب اسے محسوس ہوتا ہے کہ میری ماں مر چکی ہے اور اب دنیا میں میرا کوئی ہمدرد نہیں ۔ مگر افسوس مسلمانوں پر کہ وہ تمھیاں پڑنے پر بھی نہ سمجھے۔ اسلام جس کے ذریعہ انہیں عزت حاصل تھی ، اسلام جس کے ذریعہ انہیں عظمت حاصل تھی ، اسلام جس کے ذریعہ انہیں فوقیت حاصل تھی ، وہ اسلام جس نے ان کو بھیڑوں اور بکریوں کے چرواہوں سے اٹھا کر دنیا کا بادشاہ بنا دیا اور یورپ کے ایک سرے سے لیکر چین کے دوسرے سرے تک ان کا ڈنکا بجا دیا وہ اسلام اور قرآن مر گئے ، دفن کر دیئے گئے اور مسلمان غیر عورتوں کے سپرد کر دیئے گئے ۔ ان کی طرف سے مسلمانوں پر تمھیاں پڑیں ، ظلم ہوئے ، تکلیفیں آئیں مگر ابھی تک وہ یہ نہیں سمجھے کہ ہم اپنے بداعمال کی وجہ سے اپنی ماؤں سے جُدا کر دیئے گئے ہیں ۔ کاش! انہیں محسوس ہوتا کہ دنیا کی مائیں ایک دفعہ مرکر زندہ نہیں ہوتیں مگر روحانی مائیں زندہ ہو جاتی ہیں۔ اگر ہم میں سے وہ شخص جس کی ماں مری ہوئی ہو، اگر ہم میں سے وہ شخص جس کا باپ مرا ہوا ہو، وہ شخص جو دوسروں کے دروازہ پر ٹھوکریں کھاتا پھرتا ہو، جسے کھانے کیلئے روٹی ، پینے کیلئے پانی اور تن ڈھانکنے کیلئے کپڑا میسر نہ ہو، جسے نہ دن کو آرام اور نہ رات کو چین کی نیند نصیب ہوا یسے انسان کے پاس اگر کوئی شخص آئے اور کہے اسے بچہ ! اُٹھ اور اپنے والدین کی قبر پر افسوس اور ندامت کے دو آنسو بہا ، تیری ماں اور تیرا باپ زندہ ہو جائیں گے، تو کون ہے جو پاگلوں کی طرح قبرستان کی طرف دوڑا نہیں جائے گا اور اپنے ماں باپ کی قبر پر افسوس اور ندامت کے ساتھ آنسو بہانے کیلئے تیار نہیں ہوگا۔ میری تو قوت واہمہ بھی اس کا خیال نہیں کر سکتی کہ ایک شخص کے کی سامنے یہ تجویز پیش ہو اور ایسے معقول انسان کی طرف سے پیش ہو جس پر اسے اعتبار ہوا اور اس بات کو وہ رڈ کرنے کیلئے تیار نہ ہو، تو وہ دیوانہ وار قبرستان کی طرف نہ جائے اور اپنے آنسوؤں سے ان قبروں کو تر نہ کر دے ۔ مگر ہماری روحانی ماں اسلام اور روحانی باپ قرآن دونوں فوت ہو گئے ، فوت ہونے کے بعد دونوں دفن کر دیئے گئے اور کوئی معمولی آدمی نہیں بلکہ