انوارالعلوم (جلد 14) — Page 210
انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید ایک قطرہ ہے۔ رسول صلى الله بے ہوش ہو گئے مگر اُس وقت فوت نہیں ہوئے ، اسی طرح اُحد کی جنگ میں کیلوں کی جگہ کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھر مارے گئے ، آپ کے دانت گرے اور آپ بے ہوش ہو گئے ۔ غرض جو تکلیف حضرت عیسی علیہ السلام پر آئی وہی تکلیف محمد ﷺ کو بھی پیش آئی ۔ اسی طرح حضرت موسیٰ علیہ السلام کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا اور محمد علی کو بھی وطن چھوڑنا پڑا۔ غرض وہ تمام قربانیاں : ں جو پہلوں سے لی گئیں محمد ﷺ سے اکٹھی لی گئیں ۔ اب ہم کسی قربانی کو حقیر کہہ سکتے ہیں ۔ کسی قربانی کو چھوٹا اور کس کو بڑا کہہ سکتے ہیں۔ یہ محض خدا تعالیٰ کی مرضی پر منحصر ہے کہ وہ قربانی کے جس دروازہ سے چاہے انسان کو بلائے ۔ ورنہ جب خدا کہتا ہے کہ جنت میں ہر دروازہ سے فرشتے آئیں گے اور جنتیوں کو سلام کہیں گے تو اس کے یہی معنی ہیں کہ خدا کہے گا تم پر ہر دروازہ سے مصیبت آئی تھی اور تم نے اسے قبول کیا اب اس کے بدلہ میں ہر دروازہ سے تم پر سلامتی بھیجی جاتی ہے۔ اگر ہر دروازے سے کسی نے موت قبول نہیں کی تھی تو ہر دروازے سے اس پر فرشتوں کے ذریعہ سلامتی بھیجنے کا کیا مطلب ہو سکتا ہے۔ آخر وہاں ناٹک کا تماشہ تو نہیں ہوگا کہ چاروں طرف سے فرشتے بھیس بدل بدل کر آ رہے ہونگے اور مومنوں کو سلام کریں گے ۔ مِنْ كُلِّ بَابِ سَلَامٌ سے مراد یہی ہے کہ چونکہ مومن نے دنیا میں ہر باب سے قربانی دی ہوگی اور ہر تکلیف کو خدا تعالیٰ کیلئے برداشت کیا ہو گا اس لئے خدا تعالیٰ بھی ہر دروازے سے اس پر سلامتی بھیجے گا۔ پس وہ شخص جو اپنے لئے قربانی کا ایک دروازہ بھی بند کرتا ہے، جنت کا ایک دروازہ اپنے اوپر بند کرتا ہے۔ جس کا دوسرے لفظوں میں یہ مطلب ہے کہ ایسا شخص جو اسلام سے تعلق رکھنے والی کسی قربانی سے پیچھے رہتا ہے، جنت میں داخل نہیں ہوسکتا کیونکہ جنت میں وہی شخص داخل ہوگا جس نے ہر دروازہ سے خدا تعالیٰ کیلئے موت قبول کی ہوگی ۔ اور ہر قربانی کیلئے اس نے نے اپنے آپ کو تیار رکھا ہوگا ۔ وہ بخیل جو مال کی قربانی کے وقت پیچھے ہٹ جاتا اور بہانے بنا بنا کر اس سے محفوظ رہنا چاہتا ہے ، وہ قربانی کا ایک دروازہ اپنے اوپر بند کرتا ہے اور اس کے ساتھ ہی جنت کا ایک دروازہ بھی اپنے اوپر بند کر لیتا ہے کیونکہ یہ شرط ہے کہ جنت میں داخل ہونے والے پر ہر دروازہ سے سلامتی بھیجی جائے گی ۔ پس اگر اس نے ہر قربانی میں حصہ نہیں لیا تو وہ جنت میں داخل ہو کر ہر سلامتی کا مستحق کس طرح بن سکتا ہے ۔ وہ بزدل جو خدا تعالیٰ کے راستہ میں اپنا خون بہانے سے ڈرتا ہے جسے اپنی جان خدا تعالیٰ کے دین کے مقابلہ میں زیادہ پیاری دکھائی دیتی ہے، وہ قربانی کا ایک دروازہ اپنے اوپر بند کرتا اور اس کے