انوارالعلوم (جلد 14) — Page 190
انوار العلوم جلد ۱۴ ہر پیشہ سیکھنے کی کوشش کی جائے اور گو لوگ انہیں اتنا حقیر نہ سمجھتے ہوں مگر وہ کبھی پسند نہ کریں گے کہ ہمارے بچے لو ہار یا ترکھان بنیں یا وہ جولاہے کا کام سیکھیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان پیشوں کی آمدنیاں محدود ہوگئی ہیں ۔ جب کسی پیشہ میں نفع کم ہو جائے تو قدرتی طور پر اس کی قدر بھی کم ہو جاتی ہے۔ مثلاً تمہیں ہندوستان میں ایسے طبیب بھی ملیں گے جن کی ماہوار آمدنی پانچ چھ روپیہ سے زیادہ نہیں ہو گی لیکن ایسے طبیب بھی ملیں گے جن کی آمدنی پانچ چھ ہزار روپیہ ماہوار ہو گی ۔ اگر سارے طبیب پانچ یا چھ روپیہ آمدنی کے ہوں تو طب کی بھی بہت کم قدر ہو جائے ۔ چونکہ لوہارے اور ترکھانے کی آمدنی بھی کم اور محدود رہ گئی ہے اس لئے لوگوں نے ان پیشوں کو ذلیل سمجھنا شروع کر دیا ہے۔ تجارت میں چونکہ آمد زیادہ ہوتی ہے اس لئے اس کی قدر زیادہ کی جاتی ہے۔ لیکن اگر ہم بھی ان تمام پیشوں کو اسی طریق پر چلاتے جس طریق پر انہیں یورپ میں چلایا جاتا ہے تو یہاں بھی ان کی ویسی ہی قدر کی جاتی جیسی کہ وہاں کی جاتی ہے۔ اب دیکھ لو تمام کپڑا یورپ سے آتا ہے جو یا تو انکا شائر میں بنتا ہے یا بیلجیم میں ۔ بیان کیا جاتا ہے کہ ہر سال ساٹھ کروڑ روپے کا کپڑا باہر سے ہندوستان میں آتا ہے۔ ظاہر ہے کہ یہ سب کام جلا ہے کرتے ہیں چاہے کسی قسم کا کپڑا بنا جائے ، گرم کپڑا ہو یا چھینٹ ہو یا کھدر، یہ کام جلا ہے کا کام ہی کہلائے گا صرف کھد ربننے کا کام کسی کو جلا ہا نہیں بناتا بلکہ کپڑا بننے کا کام جلا ہا بنا تا ہے ۔ پھر لو ہارے کے تمام کاموں کی اشیاء یورپ سے آتی ہیں ۔ مثلاً ریل گاڑی کا سامان ، کپڑے سینے کی مشینیں ، آٹا پینے کی مشینیں ، ، روئی اور بنولے کی مشینیں ، موٹر ، بائیسکل، مختلف پر زے سب یورپ سے آ رہے ہیں ۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آہستہ آہستہ یورپ والوں نے سرمایہ داری کے ذریعہ سارا کام اپنی طرف کھینچ لیا ہے۔ اور اب تو یہ حالت ہے کہ جب ہمارا کپڑا پھٹ جائے اور اسے سینے کی ضرورت ہو تو ہمیں سوئی کیلئے بھی یورپ کا دست نگر ہونا پڑتا ہے۔ بچپن میں مجھے یاد ہے کہ ہندوستان کی بنی ہوئی سوئیاں جو کچی سوئیاں کہلاتی تھیں استعمال کی جاتی تھیں ۔ مگر اب وہ کہیں نظر نہیں آتیں۔ بات یہ ہے کہ جن چیزوں کے متعلق یورپ والوں نے دیکھا کہ ہندوستان میں استعمال ہوتی ہیں ، انہوں نے وہ چیزیں مشین کے ذریعہ بنانی شروع کر دیں ۔ اب تو مشینوں نے کھد ر بھی بنا دیا ہے اور وہ کھدر کریپ کہلاتا ہے۔ یورپ والوں نے کہا اگر ہندوستانی کھڈر پہننے کیلئے ہی تیار ہیں تو ہم مشینوں سے کھڑ رہی تیار کر دیں گے۔ پھر نجاری کا کام ہے اس میں بھی اعلیٰ فن کے کام ولایت سے ہی آتے ہیں۔ بڑے بڑے گھروں میں دیکھ لو کر سیاں اور