انوارالعلوم (جلد 14) — Page 172
انوار العلوم جلد ۱۴ حقیقت حال ہو کہ کس قدر لوگ قومی تحریک میں شامل ہیں ، وہ مرغوب نہیں ہو سکتی مایوسی کی کوئی وجہ نہیں ۔ شروع شروع میں جب میں نے کام شروع کیا تھا ، آپ لوگ آج سے زیادہ کمزور تھے ۔ مگر صحیح ذرائع سے کام لے کر خدا تعالیٰ کی امداد سے بہت بڑی کامیابی حاصل ہو گئی ۔ اب بھی خدا تعالیٰ کے فضل سے حالات کو بدلا جا سکتا ہے۔ اور اگر آپ صحیح طریق اختیار کریں گے تو انشاء الله جلد حالات بدل جائیں گے ۔ صرف ضرورت ہمت، استقلال اور قانون کے اندر رہ کر کام کرتے ہوئے قربانی اور ایثار کی ہے ۔ سو جس دن آپ لوگ پہلے کی طرح پھر کمر باندھ لیں گے، إِنْشَاءَ الله غم کے بادل پھٹ جائیں گے اور خوشی کا سورج نکل آئے گا۔ مگر یاد رہے کہ قومی آزادی ایک دن میں نہیں ملتی ۔ ہاں آزادی کی قسطیں صحیح جد و جہد سے یکے بعد دیگرے ملنی شروع ہو جاتی ہیں ۔ ۴۔ حکومت کی آپ لوگ پوری نگرانی رکھیں کہ گلینسی رپورٹ پر عمل ہوتا ہے یا نہیں ۔ جہاں نقص معلوم ہو فوراً اس کی اطلاع آل انڈیا کشمیر ایسوسی ایشن کو یا مجھے دیں۔ ہم تحقیق کر کے انْشَاءَ الله حکومت پر دباؤ ڈالیں گے کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ کلینسی رپورٹ میں جو کچھ ملا ہے، وہ ہمارے مطالبات سے بہت کم ہے لیکن اس میں کوئی شک گله گا نہیں کہ اگر اس پر عمل ہو، تو مسلمانوں کی حالت موجودہ حالت سے اچھی ہو جاتی ہے۔ پس مطابق مثل یکی را بگیرد دیگرے را دعوی بگن“۔ جو ملا ہے اسے تو لینے کی کوشش کرنی چاہئے اور باقی مطالبات کیلئے جد و جہد کو وجہد کو جاری رکھنا چاہئے ۔ یہی طر ! یہی طریق احسن ہے اور اس میں کامیابی گلست کا راز ہے۔ حکومت موجودہ شورش سے فائدہ اُٹھا کر مینسی رپورٹ کو عملاً داخل دفتر کرنا چاہتی ہے۔ ہمارا کام ہے کہ ہوشیاری سے اس پر عمل کرائیں اور اگر وہ عمل نہ کرے تو حکومت ہند اور حکومت انگلستان کے سامنے اس معاملہ کو پیش کریں ۔ اگر باری باری ایک ایک مسئلہ کولیکر زور دیا گیا تو آپ دیکھیں گے کہ زور زیادہ پڑ سکے گا اور کامیابی زیادہ یقینی ہوگی ۔ سب امور کو اکٹھا پیش کرنے پر حکومت برطانیہ جواب دے دیتی ہے کہ آخران کاموں کیلئے وقت چاہئے ۔ لیکن اگر ایک امر کو لے کر کشمیر اور باہر کی طاقت اس پر خرچ کر دی جائے تو یقیناً کشمیر در بار معین صورت میں احکام جاری کرنے پر مجبور ہوگا ۔ مثلاً سب سے پہلے ملازمتوں ستوں کے سوال کو لے لیا جائے ۔ اس سوال کے حل ہو جانے سے آپ کو آدھی فتح حاصل ہو جاتی ہے۔ کیونکہ علاوہ مالی فائدہ کے حکومت میں ایک کافی تعداد ایسے لوگوں کی آ جاتی ہے جن کے دل آپ کی ہمدردی