انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page xxi of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page xxi

۱۵ انوار العلوم جلد ۱۴ اسمبلی میں اپنے نمائندے مقرر کئے جائیں ۔ تعارف کتب جن حکام نے قانون شکنی کی ہے ان کے خلاف مواد اکٹھا کیا جائے تا کہ ان پر مقدمات چلائے جاسکیں ۔ (۱۲) اہالیان سندھ و کراچی کے نام پیغام ۱۹۳۶ء کو حضرت خلیفۃ المسیح الثانی کراچی تشریف لے گئے ۔ ۱۷ فروری ۱۹۳۶ ء کو جماعت کی طرف سے کلارنی ہوٹل میں آپ کے اعزاز میں ایک شاندار ڈنر دیا گیا جس میں ہندو مسلم اور عیسائی ہر طبقہ کے معززین بھی مدعو تھے ۔ کھانے کے بعد حضور نے سامعین کو ایک مختصر مگر نہایت جامع اور قیمتی خطاب سے نوازا۔ آپ نے فرمایا کہ دنیا سے اختلاف کبھی نہیں مٹ سکتے لیکن ہمیں چاہئے کہ ہم اس اصل کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ ہم سب خدا کے بندے اور اس کی مخلوق ہیں اور خدا اپنی تمام مخلوق سے محبت رکھتا ہے ہم ایک دوسرے کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آئیں ۔ حضور نے فرمایا کہ آنحضور ﷺ نے نجران کے عیسائیوں کو مسجد نبوی میں عبادت کرنے کی اجازت دی۔ پس دوسرے مذاہب کے عقائد سے اختلاف رکھنے کے باوجود اگر ہم ایک خدا کے رشتہ کو سمجھ لیں تو ایک دوسرے سے محبت رکھ سکتے ہیں ۔ حضرت بانی سلسلہ احمد یہ فرمایا کرتے تھے۔ میں ہندوؤں کے نبیوں کو بھی مانتا ہوں ، عیسائیوں کے نبیوں کو بھی مانتا ہوں کیونکہ اس میں قرآن کریم کی سچائی کا ثبوت ہے“۔ اگر ہم قرآن کریم کی اس تعلیم کو اپنا اصول قرار دے لیں جس پر حضرت بانی سلسلہ احمد یہ نے بہت زور دیا ہے تو ہمارے آدھے جھگڑے ختم ہو جائیں ۔ حضور نے اپنے دل کا حال یوں بیان کیا۔ میرے دل میں کبھی کسی ہندو سکھ یا عیسائی کے لئے نفرت پیدا نہیں ہوئی ۔ میں اس معاملہ میں یہاں تک تیار ہوں کہ اپنے بچوں کے سر پر ہاتھ رکھ کر حلفاً کہہ سکتا ہوں کہ میں نے کبھی کسی ہندو، عیسائی یا سکھ کو نفرت کی نگاہ سے نہیں دیکھا“۔ نیز فرمایا:۔ کئی چھوٹے بھائی ہوتے جو بڑے بھائیوں کے لئے مشعل راہ بن جاتے ہیں اسی طرح میں کہتا ہوں کہ علمی ، اقتصادی اور تمدنی تعلقات کو اُس معیار تک بلند کر لو