انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 140

انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت صلى الله عروسه لیکن یہ ایک نسبتی امر ہے کیونکہ اس سورج کے چڑھنے سے آپ کے زمانہ کے مصائب کی رات کا دن میں بدلنا مراد ہے ۔ تمام مصائب ہے۔ تمام مصائب کا خاتمہ مراد مراد نہیں جیسے رسول کریم ﷺ کو جب خدا تعالیٰ نے فتح و نصرت کی بشارت دے دی تو آپ کے زمانہ کی رات کا دن چڑھ گیا۔ لیکن صحابہ کیلئے دن نہیں چڑھا تھا بلکہ ان کیلئے پھر بھی رات قائم رہی اور آپ کے بعد انہیں اور مخالف طاقتوں سے مقابلہ کرنا پڑا۔ بہر حال یہ رات بڑی مبارک رات ہے اور جب یہ راتیں بالکل ختم ہو جائیں تو پھر ان راتوں کے بعد جو دن آتے ہیں وہ اس رات جیسے بابرکت نہیں ہوتے ۔ اسلامی نقطہ نگاہ کے ماتحت یہ رات ہی بابرکت ہے کیونکہ اسی رات میں آئندہ کی تمام ترقیات پوشیدہ ہوتی ہیں۔ اور قوم جتنی زیادہ اس رات میں قربانیاں کرتی ہے، اتنی ہی زیادہ ترقیات کو وہ دنیا کیلئے جمع کرتی اور نیکیوں کا ایک بھاری ذخیرہ خدا تعالیٰ کے پاس جمع کرتی ہے۔ پس ہر قربانی جو آپ لوگ کر رہے ہیں ایک ذخیرہ جمع کر رہے ہیں اپنی اُخروی نعمتوں اور ترقیات کا اور ذخیرہ جمع کر رہے ہیں اپنی اولاد کیلئے دنیوی نعمتوں اور ترقیات کا۔ پھر جتنی زیادہ یہ رات لمبی ہوگی ، اسی قدر اگلا دن روشن ہوگا اور اسی قدر زیادہ آپ کو اُخروی نعمتیں اور آپ کی اولادوں کو دنیوی نعمتیں ملیں گی ۔ اللہ تعالیٰ خود فرماتا ہے ۔ مَا أَدْرَكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ " تجھے کیا پتہ کہ لیلۃ القدر کیا شان رکھتی ہے۔ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ الْفِ شَهْرٍ ليلة القدر تو ہزار مہینوں سے بھی اچھی ہے۔ اگر اس لیلۃ القدر سے رمضان والی لیلۃ القدر مراد ہو تو اس کے کوئی معنی ہی نہیں بنتے۔ کیونکہ ہزار مہینوں میں تراسی لیلۃ القدر آتی ہیں اور یہ کہنا کہ ایک لیلۃ القدر ۸۳ لیلۃ القدر سے اچھی ہے، بے معنی بات ہے ۔ حقیقت یہ ہے کہ اس لیلۃ القدر سے وہی رات مراد ہے جو اُس وقت آتی ہے جب کوئی نبی دنیا میں بھیجا جاتا ہے اور اس کے ماننے والوں کو قربانیاں کرنی پڑتی ہیں ۔ پھر خَيْرٌ مِنْ اَلْفِ شَهْرٍ کہنے میں ایک اور حکمت بھی ہے اور وہ یہ کہ رسول کریم ﷺ فرماتے ہیں ۔ ہر صدی کے سر پر اللہ تعالیٰ احیائے اسلام کیلئے ایک مجدد مبعوث کیا کرے گا ۔ ها مجد د کا زمانہ اگر اٹھارہ میں سال بھی فرض کر لیا جائے تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔ مجد دکا اٹھارہ میں سال کا جو زمانہ ہوتا ہے وہ باقی تمام صدی سے بہتر ہوتا ہے اور چونکہ مجد دکا زمانہ بھی قربانیوں کا زمانہ ہوتا ہے اس لئے جس طرح نبی کا زمانہ باقی تمام زمانوں سے بہتر ہوتا ہے، اسی طرح مجدد کا زمانہ بھی باقی تمام صدی سے بہتر ہوتا ہے۔ پھر فرماتا ہے۔ تَنَزَّلُ الْمَلئِكَةُ وَالرُّوْحُ فِيهَا بِاِذْنِ رَبِّهِمْ ك اس رات خدا تعالیٰ کے عام ملائکہ اور اس کا