انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 118 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 118

انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت بن گیا تھا کہ دو آنے دے دو ۔ جس قرآن کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے دنیا کے سامنے پیش کیا ہے، اسے پڑھنے سے یوں معلوم ہوتا ہے کہ خدا کہتا ہے میں تمہارے گھروں میں چل کر آ گیا۔ میں نے تمہارے لئے کامیابیاں اور کامرانیاں مقدر کر دیں اور میں نے تمہیں اس لئے پیدا کیا ہے کہ تم دنیا پر غالب آؤ ۔ مگر غیر احمدیوں کے پاس جو قرآن ہے، وہ مسلمانوں کو بتاتا ہے کہ تم گر گئے ، دنیا کی نگاہوں میں تم ذلیل اور رسوا ہو گئے اور جیتے جی تم جہنم میں داخل ہو گئے ۔ اب بات کہاں سے کہاں پہنچ گئی ۔ اور کس طرح الہی پیغام کے مفہوم کی شکل تبدیل ہو گئی ۔ پس حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ سے جوں جوں بعد ہوتا چلا جائے گا بہت سی باتوں میں تغیر ہوتا جائے گا ۔ میں نے دیکھا ہے وہی آیتیں جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوة والسلام نے وفات مسیح کے ثبوت میں پیش کیں ، اب وہی آیتیں جب بعض لوگ پیش کرتے ہیں تو دشمن اس پر بیسیوں اعتراض کرتا ہے ۔ اس کی وجہ یہی ہے کہ انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے استدلال کو پوری طرح سمجھا نہیں ہوتا ۔ ہمارے ایک دوست تھے ، وہ اچھے عالم اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے مقرب تھے مگر نقص یہ تھا کہ وہ قوت گویائی نہیں رکھتے تھے۔ ایک دفعہ ان کا ایک لطیفہ کسی نے سنایا۔ وہ وفات مسیح پر کسی مخالف سے بحث کرنے لگے تو کہنے لگے وفات مسیح کا مسئلہ تو صاف ہے اس کے ثبوت میں تو قرآن مجید میں تمیں آیتیں پائی جاتی ہیں ۔ مخالف نے کہا کہ آپ ایک آیت پیش کریں انہوں نے کوئی آیت پیش کی ۔ مگر استدلال کے نقص کی وجہ سے اس آیت کا وفات مسیح کے ثبوت میں جو امتیازی رنگ تھا اسے چھوڑ دیا۔ مخالف نے استدلال پر اعتراض کیا تو یہ کہنے لگے اچھا اسے چھوڑ واور دوسری آیت سنو دوسری آیت پیش کی تو اس نے پھر کوئی اعتراض کر دیا۔ وہ کہنے لگے اچھا اسے بھی چھوڑو اور تیسری آیت لو۔ بتانے والے نے بتایا کہ اسی نے بتایا کہ اسی طرح ہوتے ہوتے وتے تیسوں آیتیں ختم ہو گئیں آخر انہوں نے یہ کہہ کر بحث بند کر دی کہ تجھ کو تو باتیں بہت بنانی آتی ہیں ۔ تو زمانہ کے بعد کی وجہ سے بہت بڑا فرق ہو جاتا ہے۔ اور ہمارا فرض ہے کہ اسے مد نظر رکھتے ہوئے ہم قریب ترین عرصہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی مصفی تعلیم دنیا کے مختلف کونوں میں پہنچادیں تا کہ اسے بڑھنے اور پنپنے کا موقع مل جائے ۔ اور اگر خدانخواستہ بعد میں کسی ایک جگہ نقص پیدا ہو جائے تو دوسرے مقامات اسے دور کر سکیں ۔ ورنہ اگر ایک مرکز پر ہی ساری دنیا کا انحصار ہو، تو اس مرکز کے بگڑ جانے کی وجہ سے صحیح تعلیم دنیا سے مفقود ہو سکتی ہے۔ جس طرح اگر کسی کتاب کا ایک ہی نسخہ ہو تو