انوارالعلوم (جلد 14)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 98 of 642

انوارالعلوم (جلد 14) — Page 98

انوار العلوم جلد ۱۴ تحریک جدید کے مقاصد اور ان کی اہمیت انہوں نے انکار کیا اور کہا ہمیں ” سول ڈس ابیڈی انس سے انکار نہیں لیکن ہم سمجھتے ہیں اس میں فائدہ نہیں ۔ حالانکہ حقیقت یہ تھی کہ انہیں کونسلوں کی پڑی ہوئی تھی ۔ اور اس طرح مسلمانوں کی نگاہوں میں ذلیل ہونے کے بعد وہ یہ چاہتے ہیں کہ اب قادیان آ کر اور مسلمانوں کی توجہ کو اس طرف پھیر کر اپنے کھوئے ہوئے وقار کو پھر حاصل کریں۔ مگر چونکہ اس کے ساتھ ہی مجھے یقین تھا کہ وہ مباہلہ نہیں کریں گے اور شرطوں کے ہیر پھیر میں اس دعوت کو ٹال دیں گے ، اس لئے میں نے ان کی اس شرط کو منظور کر لیا اور کہا وہ باقی شرائط طے کریں تو میں اس شرط کو منظور کرتا ہوں ۔ مگر یہ اعلان شائع ہونے کے بعد جو کچھ میں نے ان کی طرف سے دیکھا اس کی مجھے یقیناً امید نہ تھی ۔ مجھے یہ تو خیال تھا کہ وہ شرائط کے نام پر کوئی بہانہ بنا کر مباہلہ سے گریز کریں گے مگر یہ خیال نہیں تھا کہ وہ اپنی کا نفرنس کے انعقاد کی تیاریاں شروع کر دیں گے۔ میں صرف اتنا سمجھتا تھا کہ وہ آئیں گے اور شرائط کے متعلق جھگڑا کر کے چلے جائیں گے مگر انہوں نے اس موقع سے ناجائز فائدہ اٹھا کر لوگوں میں اشتہارات تقسیم کرنے شروع کر دیئے کہ قادیان میں پہلے سے بھی زیادہ شاندار احرار کا نفرنس منعقد ہو گی اور مباہلہ بھی ہوگا۔ لوگوں کو چاہئے کہ وہ نظارہ دیکھنے کیلئے بہت بڑی تعداد میں قادیان پہنچیں ۔ لیکن ایک طرف تو انہوں نے کانفرنس کا اعلان کرنا شروع کر دیا اور دوسری طرف شرائط کی طرف سے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال لیں اور کوئی ایک تحریر بھی انہوں نے اس سلسلہ میں ہمارے دفتر میں نہیں بھیجوائی ۔ انہیں متواتر بذریعہ تحریر توجہ دلائی گئی مگر کسی پٹھی کا جواب نہ آیا۔ آخر ایک دن مسٹر مظہر علی صاحب اظہر کا یکدم سیالکوٹ سے مجھے تار پہنچا کہ احرار کی طرف سے مباہلہ کی تاریخ ۲۳ نومبر مقرر کی گئی ہے۔ اس پر ہماری جماعت کے ایک سیکرٹری کی طرف سے انہیں پھر پٹھی لکھی گئی کہ پہلے شرائط طے کیجئے ۔ بغیر شرائط کے کس طرح مباہلہ کی تاریخ مقرر کی جاسکتی ہے؟ مگر اس کا بھی کوئی جواب نہ دیا گیا اور صرف اخباروں میں اعلان ہوتا رہا کہ ہمیں سب شرائط منظور ہیں ۔ حالانکہ شرائط اسی وقت تفصیل کے ساتھ طے ہو سکتی تھیں : میں جب فریقین کے نمائندے بیٹھتے اور آپس میں مل کر فیصلہ کرتے ۔ اعلان میں تو موٹی موٹی باتیں بیان کی جاسکتی ہیں تفصیلات کس طرح بیان کی جاسکتی ہیں ۔ مثلاً میں نے شرط مقرر کی تھی کہ پانچ سو یا ہزار آدمی احرار کی طرف سے مباہلہ میں شامل ہوں ۔ اگر بالفرض انہوں نے اس شرط کو منظور کر لیا ہوتا تو ضروری تھا کہ ان پانچ سو یا ہزار آدمی کے نام اور مکمل پتے ہمیں دیئے جاتے ۔ ورنہ پانچ سو یا ہزار آدمی مباہلہ کر کے چلے جاتے تو