انوارالعلوم (جلد 14) — Page xiii
انوار العلوم جلد ۱۴ تعارف کتب نوعیت کے آٹھ الزامات کے سچا ثابت ہونے پر ۸۰۰ روپے انعام دینے کا وعدہ فرمایا۔ احرار کے تمام بے بنیاد الزامات کی قلعی کھولنے کے بعد آپ نے مزید اتمام حجت کی خاطر انہیں دعوت دی کہ اگر انہیں کوئی بات منظور نہ ہو تو مباہلہ کے الفاظ کی تعیین کرنے کے بعد دونوں فریق اپنے اپنے الفاظ پر دستخط کر کے ایک دوسرے کو دیں تاکہ رسالہ کی صورت میں اسے شائع کر دیا جائے ۔ آخر مباہلہ کی دعا خواہ تحریر میں آئے یا زبانی کی جائے ایک سا اثر رکھتی ہے۔ آخر میں حضور نے انہیں تنبیہ کی کہ :۔ ایک زندہ اور خبر دار خدا کے ہاتھ میں ہماری قسمتیں ہیں وہ اس جھوٹ کو کبھی سر سبز نہیں ہونے دے گا۔ میرا خدا مجھے اس طرح نہیں چھوڑے گا وہ اُن کے موجودہ اور آئندہ سب فریبوں سے مجھے محفوظ رکھے گا اور اس کا ہاتھ رُکے گا نہیں جب تک کہ وہ سچ کو سچ ثابت نہ کر دے کہ اس کی شان کے یہی مطابق ہے اور اس کی صفات حسنہ اسی کی متقاضی ہیں۔ (۵) آل انڈیا نیشنل لیگ کی والنٹیر کور سے خطاب ۱۹۳۴ء کے پُر آشوب زمانے میں کچھ عرصہ مرکز سلسلہ قادیان کی حفاظت کا کام والنٹیر زکور کے سپرد کیا گیا جو انہوں نے بہت خوش اسلوبی سے سرانجام دیا۔ مؤرخہ ۲۴ نومبر ۱۹۳۵ء کو حضور نے انہیں ایک مختصر سے خطاب سے نوازا جس میں ان کے حُسنِ انتظام اور جوش و جذبہ پر خوشنودی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا:۔ وو آپ لوگوں نے سلسلہ کی حفاظت کا کام کر کے خدا تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کی ہے جس کے مقابلے میں سونے اور چاندی کی کوئی حیثیت نہیں۔ حضور نے کا رکنان کو اطاعت اور قربانی کا اعلیٰ معیار پیدا کرنے کی تلقین فرمائی اور فرمایا:۔ سپاہیا نہ زندگی جان دینے کیلئے ہوتی ہے مگر جان انسان فوراً نہیں دے سکتا بلکہ پہلے اسے تکالیف کا عادی بنانا پڑتا ہے تا کہ وقت پر اپنی جان کی قربانی بھی پیش کر سکے نیشنل لیگ اور اس کے کور کے قائم کرنے سے غرض ہی یہ ہے کہ تکالیف برداشت کرنے کا لوگوں کو عادی بنایا جائے۔