انوارالعلوم (جلد 14) — Page 60
انوار العلوم جلد ۱۴ آل انڈیا نیشنل لیگ کی والنٹیر زکور سے خطاب کہ انہیں محنت مشقت اٹھا کر سلسلہ کے لئے کام کرنے پڑیں گے، ان کے دلوں میں ایک منٹ کے لئے بھی یہ خیال نہیں آ سکتا کہ سلسلہ کی حفاظت کا کام کر کے انہیں کوئی تکلیف پہنچی اور اگر کوئی شخص ایسا خیال کرتا ہے تو یہ نا واجب اور گناہ کی بات ہے۔ سپاہیانہ زندگی جان دینے کیلئے ہوتی ہے مگر جان انسان فوراً نہیں دے سکتا بلکہ پہلے اسے تکالیف کا عادی بنانا پڑتا ہے تا کہ وقت پر اپنی جان کی قربانی بھی پیش کر سکے ۔ اس میں شبہ نہیں کہ جان دینا بہت بڑی بات ہے لیکن خدا تعالیٰ کیلئے جان دینا کوئی بڑی بات نہیں اور اس کے لئے ضرورت ہوتی ہے کہ محنت و مشقت اور تکالیف برداشت کرنے کا انسار الله انسان اپنے آپ کو عادی بنالے۔ رسول کریم ﷺ بھی صحاب صحابہ کو اس قسم کی پریکٹس کرایا کرتے تھے۔ چنانچہ کبھی تیر اندازی کی مشق کراتے ، کبھی گھوڑ دوڑ کراتے اور کبھی تلوار چلانا سکھاتے ۔ پھر عملی زندگی میں انہیں ایسی ایسی تکالیف اُٹھانی پڑیں جو آپ لوگوں کو ابھی اُٹھانی نہیں پڑیں۔ ایک صحابی بیان کرتے ہیں کہ ایک جنگ کے دوران میں انہیں اور ان کے ساتھیوں کو دس دن تک کھانا نہ ملا اور بھوک کی شدت کی وجہ سے درختوں کے پتے کھا کھا کر وہ گزارہ کرتے رہے۔ پتے کھانے کی وجہ سے مینگنیوں کی شکل میں پاخانہ آنا شروع ہو گیا ہے۔ یقیناً اس قسم کی تکلیف آپ لوگوں کو نہیں ہوئی ۔ پس جنہیں شکایت پیدا ہوئی ہے وہ صرف اس لئے ہوئی ہے کہ وہ تکالیف برداشت کرنے کے عادی نہ تھے ۔ میں اس امر کو تسلیم کرتا ہوں کہ انہیں تکلیف ہوئی ہوگی مگر نیشنل لیگ اور اس کی کور کے قائم کرنے سے غرض ہی یہ ہے کہ تکالیف برداشت کرنے کا لوگوں کو عادی بنایا جائے ۔ پس میں نصیحت کرتا ہوں کہ جنہوں نے اس قسم کا شکوہ کیا ہے وہ تو بہ کریں اور سمجھ لیں کہ ان کی طرف سے یہ ایک کمزوری کا اظہار ہوا ہے جس کے بدلے انہیں اللہ تعالیٰ کے حضور اظہار ندامت اور طلب عفو کرنا چاہئے ۔ باقی میں یہ نہیں کہتا کہ افسروں سے غلطی نہیں ہوئی ہوگی ۔ جس طرح آپ لوگ بھی اناڑی ہیں اسی طرح آپ کے افسر بھی اناڑی ہیں لیکن بہر حال فوجی نظام یہ چاہتا ہے کہ افسر چاہے غلطی کر رہا ہو اس کی اطاعت کی جائے اور اس حد تک اطاعت کی جائے جہاں تک شریعت اطاعت کرنے سے منع نہیں کرتی ۔ باقی تمام باتوں میں خواہ وہ جائز ہوں یا آپ لوگوں کی نگاہ میں نا جائز ، آپ کا فرض ہے کہ افسر کی اطاعت کریں۔ ہاں اگر اس نے کور کے قواعد کے خلاف کوئی حرکت کی ہے تو آپ لوگوں کا حق ہے کہ بعد میں بالا افسروں کے پاس با ضابطہ طور پر شکایت کریں ۔ اس اصل کو اگر نظر انداز کر دیا جائے تو اس کام کی اصل غرض بالکل یا