انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 96 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 96

انوار العلوم جلد ۱۳ १५ میری ساره اور پر گھر کے حملے پاش پاش ہو کر رہ جائیں گے اور اسلام پھر تازہ دم ہو کر ایک نئی دلہن کی طرح ناز سے باہر نکلے گا اور بغیر تکلیف کے دشمنوں کے گھر پر قبضہ کر لے گا۔ میں اپنے سامنے ایک لشکر دیکھتا ہوں بغیر توپوں کے ، اور ایک گروہ دیکھتا ہوں بغیر تلواروں کے، دنیا کے سب تلوزیے کے اس جہان کے سب توپ خانے اس پر حملہ کرتے ہیں ، وہ اپنی طاقت سے اس نہتے گروہ کو پیسنا چاہتے ہیں ، وہ بڑھے چلے آتے ہیں اور زور سے حملہ کرتے ہیں اور زیادتی میں بڑھتے چلے جاتے ہیں ، زمین کی چھاتی کا نپتی ہے، وہ اپنی کمزور اولاد کیلئے چلاتی اور واویلا کرتی ہے، خدا کے مقدسوں کے مزار ہل جاتے ہیں اور آسمان کے ستاروں کے سینے شق ہو جاتے ہیں ، تب فوج در فوج خدا کے فرشتے آسمان سے اُترتے ہیں، تاریکی دور ہو جاتی اور نور پھیل جاتا ہے ۔ وہ جو نا ممکن کہا جاتا تھا ممکن ہو جاتا ہے اور خداوند خدا جو سَيِّدِ وُلْدِ آدم کا خدا ہے، جو بنوفا رس کے پہلوان کا خدا ہے، وہ اپنے جلال کے تخت پر اترتا ہے اور اپنی بادشاہت کی باگ کمزور کے ہاتھ میں دے دیتا ہے، ہاں جب یہ سب کچھ ہو چکے گا تب وہ کلام جو خدا نے مسیح ناصری کی زبان پر فرمایا تھا، پورا ہوگا اور وہ مقدس دلہنیں جو شمع ہاتھ میں لئے اپنے دولہا کا انتظار کر رہی تھیں اور تیل اور فتیلہ لئے چوکس اور تیار کھڑی تھیں، آسمان سے اپنے مسیح کو اُترتے ہوئے دوبارہ دیکھیں گی اور بے اختیار ہو کر چلا اٹھیں گی ھو شعنا ، تب اُن کی نقل میں باقی دنیا کے لوگ بھی کہیں گے ۔ هو شعنا ، کاش ! لوگ اپنی آنکھیں کھولتے اور اپنی عقلوں سے کام لینے کی بجائے خدا کے کلام پر غور کرتے ، تب وہ ایک نیا نور اپنے دل میں پاتے اور ایک نئی چمک اپنی آنکھوں میں محسوس کرتے اور مستقبل سے ڈرنے کی بجائے شوق سے اُس کا انتظار کرتے اور دوسروں سے تیل اور فتیلے مانگنے کی بجائے خود اپنے گھر کے تیل اور قتیلے تیار رکھتے کیونکہ فتح انہی کی ہے جن کی دلہنیں تیل اور فتیلے سے تیار رہیں گی اور جن کی دلہنیں مانگنے جائیں گی وہ ناکام رہیں گے اور ان میں شامل ہوں گے جن سے دولہا منہ پھیر لیتا ہے اور جن کے لئے قلعہ کے دروازے بند کئے جاتے ہیں ۔ کاش! کوئی ہو جو اس بات کو سمجھے ۔ کافی ہے سوچنے کو اگر اہل کوئی ہے کیا سارہ بیگم کی محنت رائیگاں گئی میں دیکھتا ہوں کہ بہت سے لو مجھ سے ہمدردی کرتے ہیں کہ گویا سارہ بیگم کی موت نے ان کی محنتوں کو برباد کر دیا لیکن یہ درست نہیں اور صرف کوتا ہی نظر کے سبب سے ہے۔