انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 82 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 82

انوار العلوم جلد ۱۳ ۸۲ میری ساره فریادی ہوں کہ اس کے دل کو حوادث کی آندھیوں کے اثر سے محفوظ رکھ۔ جس طرح اس نے ظاہری صبر کیا ہے، اسے باطن میں بھی صبر دے ۔ جس طرح اس نے ایک زبردست طاقت کا مظاہرہ کیا ہے تو اسے حقیقی اسے حقیقی طاقت بھی بخش ۔ میں نا۔ میرے رب ! تیری حکمت نے اسے اس کی ماں کی محبت سے اس وقت محروم کر دیا ہے جب کہ وہ ابھی محبت کا سبق سیکھ رہی تھی ۔ عشق و محبت کے سرچشمے ! تو اسے اپنی محبت کی گود میں اُٹھا لے اور اپنی محبت کا بیج اس کے دل میں بودے۔ ہاں ہاں تو اسے اپنے لئے وقف کر لے، اپنی خدمت کیلئے چن لے، وہ تیری ہاں صرف تیری محبت کی متوالی ، تیرے در کی بھکارن اور تیرے دروازے پر ڈھونی رمانے والی ہو، تو اسے دنیا کی نعمتیں بھی دے تا وہ لوگوں کی نظروں میں ذلیل نہ ہو ، تا اس کی محبت ” عصمت بی بی از بے چارگی کی مصداق نہ سمجھی جائے لیکن باوجود ہر قسم کی عزت کے اس کا دنیا سے ایسا ہی تعلق ہو جیسا کہ کوئی شخص بارش کے وقت ایک کمرہ سے دوسرے کمرہ کی طرف جاتے وقت دوڑتا ہوا گزر جاتا ہے۔ دو تمام بچوں کیلئے دعا اے میرے رب! میں ان تینوں کو اور اپنے باقی بچوں کو بھی تیرے سپرد کرتا ہوں ۔ یہ دنیا کے کتے نہ ہوں ، یہ تیری جنت کے پرند ہوں ، یہ دین کے ستون ہوں اور بیت اللہ کے محافظ ، آسمان کے ستارے جو تاریکی میں گمراہوں کے راہ نما ہوتے ہیں ، چپکنے والا سورج جو تاریکی کو پھاڑ کر محنت ، ترقی اور کسب کے لئے راستہ کھول دیتا ہے ، سوتوں کو جگاتا اور بچھڑوں کو ملاتا ہے، یہ محبت کے درخت ہوں جن کے پھل بغض و حسد کی کڑواہٹ سے گلی طور پر پاک ہوتے ہیں، یہ راستہ کا کنواں ہوں جو سایہ دار درختوں سے گھرا ہوا ہو جس پر ہر تھکا ہوا مساف امسافر ہر واقف اور نا واقف آرام ، اور نا واقف آرام کیلئے ٹھہرتا ہو جس کا پانی ہر پیاسے کی پیاس بجھاتا اور جس کا لمبا سا یہ ہر بے کس کو اپنی پناہ میں لیتا ہو، یہ ظالموں کو ظلم سے روکنے والے ، مظلوموں کے دوست ، خودموت قبول کر کے دنیا کو زندہ کرنے والے ،خود تکلیف اُٹھا کر لوگوں کو آرام دینے والے ہوں ، وہ وسیع الحوصلہ، کریم الاخلاق اور طویل الا یادی ہوں جن کا دستر خوان کسی کیلئے ممنوع نہ ہو، وہ سابق بالخیرات ہوں، ان کا ہاتھ نہ گردن سے بندھا ہوا ہو نہ اس قدر گھلا کہ ندامت و شرمندگی اس کے نتیجہ میں پیدا ہو ۔ ٹھنڈا اے میرے ہادی ! وہ دین کے مبلغ ہوں ، اسلام کی اشاعت کرنے والے، مُردہ اخلاق کو زندہ کرنے والے ، تقویٰ کے مٹے ہوئے راستوں کو پھر روشن کرنے والے، محمد رسول اللہ کے پہلوان، لَمَّا يَلْحَقُوا بِهِم سلے کے مصداق ، ابنائے فارس کی سنت کو قائم رکھنے والے، تیرے