انوارالعلوم (جلد 13) — Page 473
انوار العلوم جلد ۱۳ 473 جماعت احمدیہ کے متعلق پنجاب کے بعض افسروں کا رویہ اینٹیں وہاں پڑی کی پڑی رہ گئیں ۔ یہ اس بات کا بد یہی ثبوت ہے کہ وہ ایسا صرف گڑ بڑ پھیلانے کے لئے کرتے ہیں ۔ علاقہ مجسٹریٹ نے کر یٹ نے کریمنل لاءایمنڈ منٹ ایکٹ کے ماتحت مجسٹریٹ علاقہ قہ کا رویہ خالص مذہبی جلسوں کے انعقاد کی ممانعت کر دی۔ ایک جلسہ سے بھی جو ایک خالص مذہبی گروہ کا تھا اور جس کے ممبر صرف ۱۰ اور ۱۸ برس کی درمیانی عمر کے لڑکے تھے ، ایسا ہی سلوک کیا گیا ۔ عید گاہ کا معاملہ کچھ عرصہ پہلے عیدگاہ میں گڑ بڑ پیداہوئی یو نیو ریکارڈ سے معلوم ہوتا ہے کہ عید گاہ کی زمین میں جائداد کے متعلق حقوق میرے خاندان کے ہیں مگر قبضہ ” اہل اسلام کا دکھایا گیا ہے ۔ گذشتہ ۳۵ برس سے احمدی وہاں نماز عید ادا کرتے رہے ہیں، جبکہ غیر احمدی اس سے ۶۰۰ فٹ کے فاصلہ پر ایک اور جگہ نماز ادا کرتے رہے ہیں ۔ کچھ دن پہلے انجمن احمد یہ نے کچھ مزدوروں کو عید گاہ میں مرمت کرنے کے لئے بھیجا انہوں نے قریب ہی زمین کھودنی شروع کی ۔ جہاں سے زمین کھودی گئی وہ ریونیو ریکارڈ کے مطابق ہمارے خاندان کی جائداد تھی اور ہماری ہی ملکیت میں تھی مگر جو نہی مرمت کا کام شروع ہوا کچھ احرار وہاں آگئے اور انہوں نے احمدیوں کو کام سے روک دیا۔ صدرانجمن احمد یہ نے فوٹو گرافر بھیجے کہ وہ اس واقعہ کا فوٹو لے لیں تا کہ اسے بعد میں بطور شہادت پیش کیا جا سکے مگر کچھ دیر بعد کچھ پولیس مین آگئے انہوں نے کیمرے چھین لئے اور ایک کیمرہ توڑ دیا اور ۶ ۔ احمدیوں کو جن میں ۴ کیمرہ مین تھے گرفتار کر لیا گیا۔ جن میں ہم کیا اس شخص کو بھی جو کام کی نگرانی کر رہا تھا اور پولیس میں صدرانجمن کی طرف سے اطلاع دینے گیا تھا گرفتار کر لیا اور زیر دفعہ ۱۰۷ تعزیرات ہند اُن کا چالان کر دیا گیا۔ فلمیں اور کیمرے ابھی تک پولیس کے قبضے میں ہیں حالانکہ ہم نے درخواست کی ہوئی ہے کہ وہ ہمیں دیئے جائیں کیونکہ ہماری شہادت ان کے بغیر نامکمل رہے گی ۔ احرار نے الزام لگایا ہے کہ احمدی عید گاہ کے قریب واقع قبروں کو مسمار احرار کا الزام کرنے گئے تھے لیکن ان قبروں میں میرے آباء واجداد اور میری دو بہنوں کی قبریں بھی ہیں جس سے احراریوں کے بیان کی نامعقولیت ثابت ہوتی ہے۔ الفضل ۲۹ - اگست ۱۹۳۵ء )