انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 463 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 463

انوار العلوم جلد ۱۳ 463 زلزلہ کوئٹہ بانی سلسلہ احمدیہ کی سچائی کا نشان ہے آبادی باہر سے سیر کرنے کیلئے آنے والوں پر مشتمل ہوتی ہے۔ (۳) یہ کہ وہ قادیان کے قریب جگہ ہوگی اور قادیان اس زلزلہ کے حلقہ میں ہوگا ۔ لیکن خدا تعالیٰ دیار مسیح موعود کو محفوظ رکھے گا ۔ یہ بات بھی پوری ہوئی کیونکہ قادیان زلزلہ کے علاقہ کے بالکل قریب تھا اور عجیب بات یہ ہے کہ امرتسر اور لاہور جو قادیان کی نسبت زلزلہ کے علاقہ سے ۵۰ اور ۷۰ میل دور تھے وہاں تو ہزار ہا عمارتوں کو نقصان پہنچا، سینکڑوں آدمی فوت ہو گئے ، لیکن قادیان اور خصوصاً حضرت مسیح موعود علیہ السلام کا گھر با وجود بہت قریب ہونے کے بالکل محفوظ رہا۔ لوگوں نے اس پر ہنسی اڑائی اور کہا کہ یہ اتفاق کی بات ہے کبھی تخمینی بات بھی تو پوری ہو جاتی ہے لیکن خدا تعالیٰ نے کہا کہ اے سنگدلو ! صبر کرو اگر تم نے اس نشان سے فائدہ نہیں اٹھایا تو ہم اور نشان دکھائیں گے اور ایسی کثرت سے دکھائیں گے کہ اتفاق کا کوئی سوال ہی نہیں رہے گا اور اس نے پھر خبر دی کہ میں دنیا کے ہر علاقہ میں زلزلہ پر زلزلہ لاؤں گا اور ایسے شدید زلزلے دنیا میں آئیں گے کہ ایک قیامت کا نظارہ لوگوں کی آنکھوں کے آگے آ جائے گا ۔ چنانچہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام اس بارہ میں فرماتے ہیں :۔ اے یورپ ! تو بھی امن میں نہیں اور اے ایشیا تو بھی محفوظ نہیں اور اے جزائر کے رہنے والو! کوئی مصنوعی خدا تمہاری مدد نہیں کرے گا۔ میں شہروں کو گرتے دیکھتا ہوں اور آبادیوں کو ویران پاتا ہوں ۔ وہ واحد یگا نہ ایک مدت تک خاموش رہا اور اس کی آنکھوں کے سامنے مکر وہ کام کئے گئے اور وہ چُپ رہا۔ مگر اب وہ ہیت کے ساتھ اپنا چہرہ دکھلائے گا ۔ جس کے کان سننے کے ہوں سنے کہ وہ وقت دور نہیں۔ میں نے کوشش کی کہ خدا کی امان کے نیچے سب کو جمع کروں ۔ پر ضرور تھا کہ تقدیر کے نوشتے پورے ہوتے ۔ میں سچ سچ کہتا ہوں کہ اس ملک کی نوبت بھی قریب آتی جاتی ہے نوٹ کا زمانہ تمہاری آنکھوں کے سامنے آ جائے گا اور لوط کی زمین کا واقعہ تم بچشم خود دیکھ لو گے۔ مگر خدا غضب میں دھیما ہے تو بہ کرو تا تم پر رحم کیا جائے ۔ جو خدا کو چھوڑتا ہے وہ ایک کیڑا ہے نہ کہ آدمی اور جو اس سے نہیں ڈرتا وہ مردہ ہے نہ کہ زندہ کے اے وہ لوگو! جن کے دل میں خدا کا خوف ہے اور جو موت کو بالکل ہی نہیں بھلا چکے ذرا ان الفاظ پر غور کرو اور دیکھو کہ کس طرح جاپان کے زلزلے اور بہار کے زلزلے اور کوئٹہ کے