انوارالعلوم (جلد 13) — Page 461
انوار العلوم جلد ۱۳ 461 زلزلہ کوئٹہ بانی سلسلہ احمدیہ کی سچائی کا نشان ہے اپنی محبت کا پیالہ پلانا چاہتا ہے اپنے وصال سے متمتع کرنا چاہتا ہے اپنی جنت کے دروازے اس کے لئے کھول دیتا ہے ایک ذلیل کیڑے سے بنے ہوئے انسان کیلئے اپنے فضلوں کی ایک بڑی دعوت کے سامان کرتا ہے اور اپنے پیارے اور مقدس وجودوں کو ان کے بُلانے کیلئے بھیجتا ہے لیکن وہ نادان اور غافل مخلوق شیطان اور اس کی ذریت کی آواز کو سن کر خدا تعالیٰ کی دعوت کورڈ کر دیتی ہے وہ نجاست پر رغبت سے منہ مارتی ہے لیکن پاک غذا کو ہزار نفرت کے ساتھ پرے پھینک دیتی ہے وہ ناک بھوں چڑھا کر منہ پھیر لیتی ہے اور اس یا راز لی کی ایک جھلک دیکھنے پر بھی آمادہ نہیں ہوتی ۔ اسے ظالم انسان ! یہ سلسلہ کب تک چلا جائے گا ؟ کب تک جنت کے دروازے تیری انتظار میں کھلے رہیں گے؟ کب تک تو اپنے دشمن شیطان کی مجلس میں بیٹھا اپنے خون کے پیالے پیئے گا اور اپنی روح کو آپ مارے گا ؟ کب تیری آنکھیں گھلیں گی اور تو اپنے محبوب کے ہاتھ سے وہ زندگی بخش جام لیکر پی جائے گا جسے وہ مدتوں سے تیرے لئے اپنے پیارے ہاتھوں میں لئے کھڑا ہے؟ دیکھ ! خدا تعالیٰ نے پھر تجھے بلانے کیلئے اپنا مسیح بھیجا ہے جس کی خبر تمام انبیاء دیتے چلے آئے ہیں ۔ جس کی نسبت خود اس کے آقا اور سردار تمام انبیاء و اولیاء کے سرتاج حضرت محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم نے خبر دی تھی کہ کیا ہی مبارک ہے وہ اُمّت جس کی ابتدا میں میں اور آخر میں مسیح موعود ہوگا ۔ مگر اے انسان! تو نے اس کا کس طرح استقبال کیا ؟ کیا محبت کے ہاتھ پھیلا کر یا پتھروں کی بوچھاڑ سے؟ کیا مرحبا کہہ کر یا گالیاں دے کر ؟ اے شریف انسان ! میں تجھ سے پوچھتا ہوں اور خدا تعالیٰ کا واسطہ دے کر پوچھتا ہوں، اسی خدا کا جس کے ہاتھ میں تیری جان ہے کہ کیا تو نے اس قدر گندی گالیاں اور وہ بد زبانیاں جو اس خدا تعالیٰ کے مامور کے متعلق جائز سمجھی گئی ہیں کبھی کسی اور شخص کے متعلق بھی سنی ہیں؟ پھر کیا ممکن تھا کہ خدا تعالیٰ جو اپنے پیاروں کی سخت غیرت رکھتا ہے خاموش رہتا اور اس بد زبانی کا نتیجہ نہ دکھاتا ؟ اس نے مسیح موعود بانی سلسلہ احمدیہ کی بعثت کی ابتداء میں کہہ دیا تھا:۔ دنیا میں ایک نذیر آیا پر دنیا نے اس کو قبول نہ کیا لیکن خدا اسے قبول کرے گا اور بڑے زور آور حملوں سے اس کی سچائی ظاہر کر دے گا یہ وہ پُر شوکت الفاظ ہیں جو آج سے قریباً ساٹھ سال پہلے بانی سلسلہ احمدیہ کو اللہ تعالیٰ نے