انوارالعلوم (جلد 13) — Page 456
456 انوار العلوم جلد ۱۳ عروسه ڈاکٹر سر محمد اقبال اور احمد یہ جماعت صلى الله منسوخ کہتی ہے جو واضح عبارتوں میں بہاء اللہ کو ظہور الہی قرار دیتے ہوئے رسول کریم ﷺ پر ان کو فضیلت دیتی ہے۔ گویا ڈاکٹر سر محمد اقبال صاحب کے نزدیک اگر ایک شخص رسول کریم کی رسالت کو منسوخ قرار دیتا، قرآن کریم سے بڑھ کر تعلیم لانے کا مدعی ہوتا نمازوں کو تبدیل کر دیتا اور قبلہ کو بدل دیتا ہے اور نیا کلمہ بناتا اور اپنے لئے خدائی کا دعوی کرتا ہے حتی کہ اس کی قبر پر سجدہ کیا جاتا ہے تو بھی اس کا وجود ایسا ئر انہیں مگر جو شخص رسول کریم ﷺ کو خاتم النبین قرار دیتا آپ کی تعلیم کو آخری تعلیم بتا تا قرآن کریم کے ایک ایک لفظ ایک ایک حرکت کو آخر تک خدا تعالیٰ کی حفاظت میں سمجھتا ہے اسلامی تعلیم کے ہر حکم پر عمل کرنے کو ضروری قرار دیتا ہے اور آئندہ کے لئے سب روحانی ترقیات کو رسول کریم ﷺ صلى الله کی فرمانبرداری مانبرداری از اور غلامی میں میں محصور محصور سمجھتا ہے وہ برا اور بائیکاٹ کرنے کے قابل ہے۔ دوسرے لفظوں میں سر محمد ا طوں میں سر محمد اقبال صاحب مس صاحب مسلمانوں ۔ لرئے قرآن کریم کے بعد ایک نئی کتاب لانے کا مدعی ہو اپنے لئے خدائی کا مقام تجویز کرے اور اپنے سامنے سجدہ کرنے کو جائز قرارد۔ دئے جس کے خلیفہ کی بیعت فارم میں صاف لفظوں میں لکھا ہو کہ وہ خدا کا بیٹا ہے وہ بانی سلسلہ احمد یہ سے اچھا ہے جو اپنے آپ کو خادم رسول اکرم حلال قرار دیتے ہیں اور قرآن کریم کی اطاعت کو اپنے لئے ضروری قرار دیتے ہیں اور کعبہ کو بیت اللہ اور کلمہ کو مدار نجات سمجھتے ہیں ۔ کیونکہ بہائی تو رسول کریم کی ذات پر اور قرآن کریم پر حملہ کرتے ہیں لیکن احمدی سر محمد اقبال اور ان کے ہم نواؤں کو روحانی بیمار قرار دے کر انہیں اپنے علاج کی طرف توجہ دلاتے ہیں اور ان کے ایمان کی کمزوریوں کو ان پر ظاہر کرتے ہیں ۔ صلى الله عروسه کریم ﷺ کی رسالت کو منسوخ کرئے قرآن کے صلى الله علی به ں سے یہ منوانا چاہتے ہیں کہ جو شخص رسول میں تفاوت را از کجاست تا به کجا سر محمد اقبال صاحب اس عذر کی پناہ نہیں لے سکتے کہ میرا صرف مطلب یہ ہے کہ بہائی منافق نہیں اور احمدی منافق ہیں کیونکہ اول تو یہ غلط ہے کہ بہائی کھلے بندوں اپنے مذہب کی تلقین کرتے ہیں ۔ اگر سر محمد اقبال یہ دعویٰ کریں تو اس کے صرف یہ معنی ہونگے کہ بیسو کہ بیسویں صدی کا یہ مشہور فلسفی ان فلسفی تحریکات تک سے آگاہ نہیں جن سے اس وقت کے معمولی نوشت و خواند والے لوگ آگاہ ہیں۔ سر محمد اقبال کو معلوم ہونا چاہئے کہ بہائی اپنی کتب عام طور پر لوگوں کو نہیں دیتے بلکہ انہیں چھپاتے ہیں، وہ ہر ملک میں الگ الگ عقائد کا اظہار کرتے ہیں، وہ امریکہ میں صاف لفظوں میں بہاء اللہ کو خدا کے