انوارالعلوم (جلد 13) — Page 452
انوار العلوم جلد ۱۳ 452 جماعت احمد یا کناف عالم تک پھیل کر رہے گی حضرت مسیح موعود کے لئے ماریں اور گالیاں کھاؤ گے ؟ تو یقیناً وہ حقارت کے ساتھ دنیا کی حکومتوں وہ کو ٹھکرا دے گا اور کہے گا اے میرے خدا مجھے ماریں کھانا اور تیری عزت اور جلال کے لئے تکالیف برداشت کرنا دنیوی انعاموں سے بہت زیادہ محبوب ہے ۔ پس اگلے جہان کے انعاموں کے مقابلہ میں ان دنیوی انعامات کی تو کوئی ہستی ہی نہیں ۔ پس اے بھائیو! گو اس وقت آپ لوگوں کے سامنے مشکلات ہیں، اتنی سخت مشکلات کہ ان کو دیکھ کر آپ کا دل ڈر رہا ہے لیکن یقین رکھیں جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے آپ کو عالی آخرت میں جزاء ملے گی تو آپ کو افسوس پیدا ہو گا کہ کن معمولی معمولی باتوں کا نام ہم نے قربانی رکھا۔ بے شک کئی دوست ایسے ہیں جو اپنی عزت کے خطرہ کی وجہ سے نہیں بلکہ اس محبت کی وجہ سے جو بانی سلسلہ حمدیہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے انہیں ہے وہ ان گالیوں کو برداشت لو برداشت نہیں کر سکتے جو مخالفوں کی طرف سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو دی جاتی ہیں اور ان پر رقت طاری ہو جاتی ہے مگر سچ یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے آپ لوگوں پر بڑا احسان اور کرم کیا کہ اس زمانہ میں آپ کو پیدا کیا ۔ آج جو قربانیاں آپ لوگوں کو نظر آتی ہیں، مرنے کے بعد آپ ان پر ہنسیں گے اور کہیں گے یہ تو کچھ بھی چیز نہیں تھیں ۔ اے خدا تو ہمیں پھر دنیا میں بھیج تاہم پھر تیرے دین کی خاطر مصائب برداشت کریں۔ صلى الله ہید ہو گئے تھے ۔ رسول کریم ﷺ نے ایک دفعہ ایک بچے سے جس کے والد جنگ میں شہید ہو کہا۔ اے بچے! میں تمہیں بتاؤں مرنے کے بعد تمہارے باپ کے ساتھ کیا واقعہ پیش آیا۔اس نے عرض کیا یا رسول اللہ ! فرمائیے ۔ آپ نے کہا شہادت کے بعد خدا تعالیٰ نے تمہارے باپ کی روح کو اپنے سامنے کھڑا کیا اور کہا تو نے اتنا اچھا کام کیا ہے کہ میں تجھ پر بہت خوش ہوں تو مجھ سے جو مانگنا چاہے مانگ ۔ تیرے باپ نے جواب دیا اے خدا ! صرف ایک خواہش ہے اور وہ یہ کہ تو مجھے پھر دنیا میں زندہ کرتا میں پھر تیرے دین کے لئے مارا جاؤں ۔ اللہ تعالیٰ نے یہ مطالبہ سنا تو وہ ہنسا اور اس نے کہا ۔ اگر میں نے یہ قانون نہ مقرر کیا ہوتا کہ مردے دوبارہ دنیا میں زندہ نہیں ہو سکتے تو میں تجھے واپس بھیج دیتا ہے تو مومن جس وقت اگلے جہان کے اُن انعامات کو دیکھتا ہے جو اللہ تعالیٰ نے اس کے لئے مقرر کئے تو وہ حیران ہوتا ہے اور کہتا ہے میں اپنی ناچیز خدمات کو قربانیاں کیوں کہتا رہا۔ اس پر اس کے دل میں خواہش پیدا ہوتی ہے کہ خدا تعالیٰ اسے پھر دنیا میں بھیجے تا کہ وہ پھر دین کی خدمت بجالائے ۔ جس طرح کمزور لوگوں کے دلوں میں بسا