انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 445 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 445

445 انوار العلوم جلد ۱۳ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے مقدمہ میں حضور کا بیان اسے الگ پڑھا جائے تو میں اس کے معنوں سے متفق ہوں لیکن اس کو اگلی عبارت کے ساتھ ملا کر پڑھا جائے تو قابلِ اعتراض ہے۔ کیونکہ یہ اشتعال انگیز ہے ۔ فقرہ نمبر ۳ نجم الہدیٰ میں درج ہے۔ مگر ملزم نے اپنی تقریر میں اصل فقروں سے جُدا کر کے استعمال کیا ہے اور یہ عیسائیوں کے متعلق ہے۔ آئینہ صداقت میری کتاب ہے۔ عدالت : سوال متعلق آئینہ صداقت کی اجازت نہیں دی جاتی کیونکہ کتاب پیش نہیں کی گئی ۔ میرا یہ عقیدہ ہے کہ رسول کریم اللہ سے برتر نہ کوئی ہو سکتا ہے اور نہ ان کے برابر ہو سکتا ہے۔ ملائکۃ اللہ ایک کتاب ہے جس میں میری ایک تقریر درج ہے۔ ہے میں میری سمجھتے ( الفضل ۲۸ - مارچ ۱۹۳۵ء ) ۲۷ مارچ ۱۹۳۵ء کی کارروائی سرکاری وکیل کے سوالات کے جواب میں الله اخبار ”زمیندار“ کی پالیسی جماعت احمدیہ کے خلاف ہے۔ رسول کریم ﷺ کو ہم آخری نبی ان معنوں میں کہتے ہیں کہ آپؐ کے بعد آپ کی شریعت کو منسوخ کرنے والا کوئی نبی نہیں آ سکتا بلکہ جو آئے گا آپ کی اتباع اتباع میں آئے گا ۔ چونکہ حضرت مرزا صاحب کا دعوی رسول کریم ﷺ کی متابعت میں ہے۔ اس لئے حضرت مرزا صاحب کے دعوی کی وجہ سے رسول کریم ﷺ کی توہین نہیں ہوتی ۔ صلى صلى الله میرا عقیدہ یہ ہے کہ حضرت مر حضرت مرزا غلام احمد صاحب کا صاحب کا رسول کریم ﷺ سے بڑا ر تنبہ رکھنا تو در کنار وہ ان کے برابر بھی نہیں ہو سکتے اس لئے جہاں حضرت مرزا صاحب کے تخت کے متعلق یہ آیا ہے کہ تیرا تخت سب سے اوپر بچھا یا گیا ، وہاں رسول کریم ﷺ کے بعد میں آنے والے تختوں کا ذکر ہے نہ یہ کہ رسول کریم ﷺ کے تخت سے اوپر حضرت مرزا صاحب کا تخت بچھایا گیا۔ اس کا ثبوت یہ ہے کہ کتاب اربعین کے صفحہ ۷ میں حضرت مرزا صاحب نے یہ لکھا ہے۔ اور حقیقۃ الوحی کا صفحہ ۱۱۶ بھی اسی عقیدہ کی تائید کرتا ہے۔ حضرت مرزا صاحب کے جو سخت الفاظ پیش کئے گئے ہیں وہ آپ نے ان مولویوں کے متعلق استعمال کئے ہیں جنہوں نے پہلے آپ کے خلاف سخت کلامی اور بد زبانی کی کتاب البریہ کے صفحہ ۹۷ پر ان بُرے الفاظ اور بد زبانی کی فہرست درج ہے جو دوسروں