انوارالعلوم (جلد 13) — Page 428
انوار العلوم جلد ۱۳ 428 سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے مقدمہ میں حضور کا بیان جواب: میرے نزدیک یہ درست نہیں ۔ میرے نزدیک مجھ سے ذاتی عداوت اختلاف کی اصل ذمہ دار ہے۔ سوال: حقیقۃ الوحی صفحہ ۸۹ پر لکھا ہے کہ آسمان سے کئی تخت اُترے پر تیرا تخت سب سے اوپر بچھایا گیا۔ جواب: یہ ٹھیک ہے مگر اس کے یہ معنی نہیں کہ یہ کہنے والا اپنا رتبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑا قرار دیتا ہے۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کا شعر ہے۔ ابن مریم کے ذکر کو چھوڑو اس سے احمد ہے بہتر غلام جس کا یہ مطلب ہے کہ میں جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا غلام ہوں ابن مریم سے بڑھ کر ہوں ۔ اسی ۔ اسی طرح سینکڑوں جگہ آپ نے لکھا ہے کہ میں محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا ۔ و خادم ہوں ایک منٹ ان سے جدا ہونا میرے لئے موت ہے۔ پھر آپ فرماتے ہیں کہ محل بَرَكَةٍ مِّنْ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَتَبَارَكَ مَنْ عَلَّمَ وَ تَعَلَّمَ یعنی ہر برکت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف سے ہے اور وہ بڑا مبارک ہے جس نے محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے تعلیم پائی یعنی میں خود ۔ اس الہام کا مطلب یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کے تمام بزرگوں سے آپ کا درجہ بڑا تھا۔ سوال: آپ اپنی جماعت کو کہتے ہیں کہ تمام دنیا کو دشمن سمجھے ۔ جواب: میرے الفاظ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی قوم ترقی نہیں کر سکتی جب تک سب دنیا سے ہوشیار نہ رہے۔ سوال: میں کہتا ہوں آپ نے کہا سب کو دشمن سمجھو۔ جواب: فقرہ دکھا ئیں ۔ سوال: کیا مسلمانوں کا یہ عقیدہ ہے کہ جو نبی ہوتا ہے وہ عام انسانوں سے اخلاق میں بہت بڑھ کر ہوتا ہے۔ جواب: اس وقت کے عام مسلمانوں میں سے ایک حصہ کا یہ عقیدہ ہے کہ نبیوں میں بھی کمزوریاں ہوتی ہیں اور مسلمانوں میں ایسے خیالات پائے جاتے ہیں ۔ سوال: کیا آپ کے نزدیک نبی اخلاقی طور پر دوسروں سے بڑھ کر ہوتا ہے۔