انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 416 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 416

416 انوار العلوم جلد ۱۳ کا عہدہ ہے۔ سوال: وہ احرار کا نفرنس بند کرانے کیلئے شملہ گئے تھے ۔ سید عطاء اللہ شاہ بخاری کے مقدمہ میں حضور کا بیان جواب: مجھے معلوم نہیں کہ ان کے شملہ جانے کی غرض احرار کا نفرنس کا بند کرانا تھا۔ احرار کا نفرنس کے متعلق جو کچھ شملہ میں ہوا اس کا علم مجھے بعد میں ہوا۔ سوال: کیوں گئے تھے ۔ جواب: یہ ان سے پوچھ سکتے ہیں ۔ سوال: آپ کو یہ علم ہے کہ وہ شملہ میں کمشنر لاہور سے ملے تھے۔ جواب: مجھے یہ علم ہے یہ علم ہے کہ کمشنر صاحب نے خود اُن کو بلایا تھا، انہوں نے خود ملنے کی خواہش نہ کی تھی ۔ وہ شملہ میں تھے اور کمشنر صاحب نے خود انہیں ملنے کیلئے کہا تھا جس میں احرار کا نفرنس کا ذکر ہوا ۔ سوال: کیا یہ ٹھیک ہے کہ جب احراری جلسہ کرنے کی تیاری کر رہے تھے تو آپ نے اپنے مریدوں کو چٹھی بھیجی کہ قادیان میں آؤ ۔ جواب : نہیں ۔ کوئی چٹھی میں نے نہیں بھیجی ۔ جب میں یہ کہتا ہوں کہ چٹھی نہیں بھیجی گئی، تو اس کا یہ مطلب ہے کہ دفتر سے باہر نہیں نکلی۔ میں نے چٹھی لکھنے کیلئے آرڈر دیا تھا مگر چٹھیاں لکھی نہیں گئی تھیں بلکہ پیشتر اس کے کہ چٹھیاں لکھی جاتیں مرزا معراج الدین صاحب سپرنٹنڈنٹ سی ۔ آئی۔ ڈی مجھے ملے اور انہوں نے کہا کہ پولیس کا کافی انتظام ہوگا چٹھی جاری نہ کریں تو میں نے چٹھی روک دی ۔ سوال: کیا آپ نے دو چٹھیاں لکھیں ۔ ایک ۳۔ اکتوبر کو اور دوسرے ۱۶ ۔ اکتو بر کو۔ جواب: ۱۳ ۔ ۱۴ - ۱۵ - ۱۶ میں سے کسی تاریخ کو جود تھی گئی میں بتا چکا ہوں کہ ایک پڑھی لکھنے کا میں نے حکم دیا تھا مگر وہ بھیجی نہیں گئی اسے روک دیا گیا تھا اس سے پہلے میں نے کوئی آرڈر نہیں دیا تھا اور نہ ۳۔ اکتوبر کو کوئی چٹھی میری طرف سے بھیجی گئی ۔ سوال: کیا آپ نے آرڈر کسی اندیشہ کی وجہ سے دیا تھا۔ جواب: میں نہیں کہہ سکتا کہ اُس وقت میرے دل میں کوئی خاص خطرہ تھا مگر چونکہ قادیان ہماری مقدس جگہ ہے احتیاطی طور پر بھی ایسا کرنا ضروری تھا۔ سوال: جن کو آپ احراری کہتے ہیں ان کو اپنا دشمن سمجھتے ہیں ۔