انوارالعلوم (جلد 13) — Page 399
انوار العلوم جلد ۱۳ 399 حالات حاضرہ کے متعلق جماعت احمدیہ کو اہم ہدایات رو رو کر کہہ رہے تھے الہی ! میرے گناہ معاف کر دے۔ مولوی صاحب گھر سے نکلے تو ایسے جوش سے کہ اُس وقت تو میں ڈر گیا تھا مگر اب لطف آتا ہے ۔ کہنے لگے دل چاہتا ہے کہ اسے اُٹھا کر نیچے پھینک دوں ۔ اس نے کون سے گناہ کئے ہیں جن کی معافی مانگ رہا ہے۔ صلى الله علی کی جماعتوں ہماری جماعت کے جو لوگ یہ کہتے ہیں کہ مصیبتیں ٹل جائیں وہ غور کریں ابھی کونسی مصیبتیں آئی ہیں جن کے ملنے کی خواہش رکھتے ہو۔ خدا تعالیٰ نے بتا دیا ہے کہ جب تک ویسی ہی مصیبتیں نہ آئیں جیسی حضرت ابراہیم علیہ السلام حضرت موسیٰ علیہ السلام حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور رسول کریم اعتوں پر آئیں اُس وقت تک جنت میں داخل ہونے کی اہلیت نہیں پیدا ہو سکتی ۔ لیکن کوئی ہے جو دیانت داری سے یہ کہہ سکے کہ ویسی ہی مصیبتیں ہم پر آگئی ہیں ۔ میں تو نہیں کہہ سکتا اور کوئی ایک شخص بھی نہیں کہہ سکتا۔ صرف مصیبت کا آنا مراد نہیں بلکہ ایسی مصیبتیں آئیں جیسی پہلے انبیاء کی جماعتوں اعتوں پر آئیں ۔ جـ ۔ جب وہ آئیں اور انسان اپنے آپ کو مومن ثابت کرے تب جنت میں داخل ہوتا ہے ۔ تو شیطان ہمیں جنت کی طرف دھکیل رہا ہے مگر افسوس یہ ہے کہ آہستہ آہستہ دھکیل رہا ہے ۔ اور جس طرح آہستہ آہستہ روئی دھنی جاتی ہے اس طرح ہمیں دھنا جا رہا ہے۔ ہم مصائب ما نگتے نہیں مگر ان سے ڈر کر جھوٹی تدبیروں سے مصائب کو کم بھی نہیں کرنا چاہتے ۔ مصائب کو آنے دو جتنی کہ آتی ہیں اور یقین رکھو کہ آخر کا ر شیطنت ہی بھسم ہوگی ۔ رہے کمزور تو خدا تعالیٰ فرماتا ہے مصائب لائے ہی اس لئے جاتے ہیں کہ کمزوروں کو الگ کر دیا جائے گا۔ پس کمزوروں کو الگ ہونے دو ورنہ وہیں بیٹھے رہو گے جہاں بیٹھے ہو اور جنت میں داخل نہ ہو سکو گے ۔ اور وہی بات ہو گی جو ایک بزرگ نے اپنے شاگرد سے کہی تھی ۔ انہوں نے شاگرد سے کہا : اب تم اپنے وطن جاتے ہو مگر یہ تو بتاؤ کیا وہاں شیطان ہوتا ہے ۔ شاگرد نے حیران ہو کر کہا آپ یہ کیا پوچھتے ہیں شیطان تو ہر جگہ ہوتا ہے۔ بزرگ نے کہا اگر شیطان تم سے مقابلہ کرے تو تم کیا کرو گے ۔ انہوں نے کہا میں بھی شیطان کا مقابلہ کروں گا۔ بزرگ نے کہا اگر شیطان نے پھر حملہ کیا تو کیا کرو گے انہوں نے کہا پھر مقابلہ کروں گا۔ بزرگ نے کہا اگر اسی طرح تم ساری عمر شیطان سے لڑتے رہے تو خدا تعالیٰ کے پاس کب جاؤ گے ۔ انہوں نے کہا پھر آپ ہی بتا ئیں مجھے کیا کرنا چاہئے ۔ بزرگ نے کہا اگر تم کسی دوست کے پاس جانا چا ہوا اور اُس کا خونخوار گتا تمہیں جانے نہ دے تو کیا کرو گے۔ انہوں نے کہا گتے کو مار کر بھگانے کی کوشش کروں گا ۔ بزرگ نے کہا کتا پھر آجائے تو ۔ انہوں نے کہا گتے کے مالک کو آواز دوں گا کہ اسے