انوارالعلوم (جلد 13) — Page 3
<mark>ان</mark>وار العلوم جلد ۱۳ اللہ تعالیٰ کے ر<mark>اس</mark>تہ میں تکالیف ہے کہ گو کام <mark>اس</mark> قدر نہیں ہوا جس قدر ہونا چاہئے تھا مگر پھر بھی عام جماعت کو مدنظر رکھتے ہوئے <mark>ان</mark>صار اللہ کا کام بہت زیادہ ہے۔ہماری تمام جماعت لاکھوں افراد پر مشتمل ہے جن میں سے بتایا گیا ہے کہ اٹھارہ سو <mark>ان</mark>صار اللہ ہیں۔<mark>اس</mark> لاکھوں کی جماعت کی کوشش سے سارے سال میں پ<mark>ان</mark>چ چھ ہزار آدمی جماعت میں داخل ہوتے ہیں لیکن <mark>اس</mark> کے مقابلہ میں <mark>ان</mark>صار اللہ کی کوشش سے <mark>اس</mark> سال چھ سو افراد جماعت میں شامل ہوئے جس کے معنی یہ ہیں کہ گو تعداد کے لحاظ سے <mark>ان</mark>صار اللہ تمام جماعت کے مقابلہ میں سو میں سے ایک بھی نہیں لیکن تبلیغی لحاظ سے <mark>ان</mark>ہوں نے جماعت کے کام کے مقابلہ میں دس فیصدی کام کیا ہے اور پھر بتایا گیا ہے کہ اٹھارہ سو میں سے صرف تین سو <mark>ان</mark>صار اللہ نے حقیقی کام کیا جو تمام <mark>ان</mark>صار اللہ کا ۶/۱ ہوتے ہیں گویا ساری جماعت میں سے ۱۸سو آدمی جن کی فیصدی کچھ نسبت ہی نہیں بنتی <mark>ان</mark> کا <mark>ان</mark>صار اللہ میں داخل ہونا اور <mark>ان</mark> میں سے صرف ۱۶ فیصدی کا کام کرنا جس کے نتیجہ میں چھ سو افراد کا جماعت میں شامل ہونا درحقیقت <mark>اس</mark> بات کی علامت ہے کہ <mark>اس</mark> تنظیم سے کام میں تیزی پیدا ہوئی ہے۔پھر رپورٹ میں ایک یہ بات بھی نہایت خوشکن تھی کہ جماعت ضلع گجرات جو کسی زم<mark>ان</mark>ہ میں تمام جماعتوں کے مقابلہ میں دوسرے نمبر پر ہوا کرتی تھی، جہاں بیسیوں افراد السَّابِقُونَ الاَوَّلُونَ کے موجود ہیں اور جہاں کے <mark>لوگ</mark>وں نے اُس وقت سلسلہ احمدیہ کو قبول کیا جب کہ بڑی بڑی سختیاں اور ظلم ہوا <mark>کرتے</mark> تھے اور <mark>ان</mark>ہوں نے ظلموں کو برداشت <mark>کرتے</mark> ہوئے ایم<mark>ان</mark> کو ہاتھ سے نہ ج<mark>ان</mark>ے دیا مگر بعد میں وہاں سستی پیدا ہوگئی اور جماعت گرتے گرتے اب شاید پ<mark>ان</mark>چویں یا چھٹے نمبر پر رہ گئی۔<mark>اس</mark> میں بھی اب بیداری پیدا ہو رہی ہے۔مجھے <mark>اپنے</mark> بچپن کے زم<mark>ان</mark>ہ میں ضلع گجرات کے <mark>لوگ</mark>وں کا <mark>یہاں</mark> آنا یاد ہے۔اُس وقت سیالکوٹ اور گجرات سلسلہ کے مرکز سمجھے جاتے تھے گورد<mark>اس</mark>پور بہت پیچھے تھا کیونکہ قاعدہ ہے کہ نبی کی <mark>اپنے</mark> وطن میں زیادہ قدر نہیں ہوتی ہے <mark>اس</mark> زم<mark>ان</mark>ہ میں سیالکوٹ اول نمبر پر تھا اور گجرات دوسرے نمبر پر۔مجھے گجرات کے بہت سے آدمیوں کی شکلیں اب تک یاد ہیں۔مجھے یاد ہے کہ بہت سے <mark>اس</mark> اخلاص کی وجہ سے کہ تا وہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے <mark>اس</mark> الہام کو پورا کرنے والے بنیں کہ يَأْتِيكَ مِنْ كُلَّ فَجٍّ عَمِيق۔سے نہ <mark>اس</mark> وجہ سے کہ <mark>ان</mark>ہیں مالی تنگی ہوتی پی<mark>دل</mark> چل کر قادی<mark>ان</mark> <mark>آتے</mark>۔<mark>ان</mark> میں بڑے بڑے مخلص تھے جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا قرب رکھتے۔یہ بھی ضلع گجرات کے <mark>لوگ</mark>وں کا ہی واقعہ ہے جو حا فظ روشن علی صاحب مرحوم سنایا <mark>کرتے</mark> تھے اور میں بھی اِس کا ذکر کر