انوارالعلوم (جلد 13) — Page 382
انوار العلوم جلد ۱۳ 382 حالات حاضرہ کے متعلق جماعت احمد یہ کو اہم ہدایات کوئی حکومت ، کوئی طاقت اور کوئی انتظام ان کو بچا نہیں سکتا۔ غرض اس ہستی کو جس کی تحقیر اور تذلیل دیکھنا اور جس کے متعلق گالیاں اور بد زبانیاں سننا ہماری طاقت برداشت سے باہر ہے حد سے بڑھی ہوئی گالیاں دی جاتیں اور نا قابلِ برداشت تذلیل کی جاتی ہے اور ایسے موقع پر کی جاتی ہے جبکہ اشتعال فوراً پیدا ہو جاتا ہے ۔ مثلاً انہی ایام میں جب کہ ہمارا سالانہ جلسہ ہو رہا ہے آٹھ نو ہزار کے قریب قادیان میں احمدیوں کی آبادی ہے تین چار ہزار احمدی ارد گرد کے دیہات سے آئے ہوئے ہیں، گیارہ بارہ ہزار احمدی پنجاب اور ہندوستان کے دوسرے علاقوں کے جمع ہیں اور تیئیس چوبیس ہزار احمدیوں کا اجتماع قادیان میں موجود ہے آج اس جگہ جہاں ایک چپہ بھر زمین بھی مخالفین کی نہیں ہے جہاں ان کی تعداد عام حالات میں بھی احمدیوں کے مقابلہ میں / ۱۱۰ فیصدی بھی نہیں ہے اور جہاں اس وقت سرکاری حکام موجود ہیں، نہایت ہی گندہ اور نا پاک لٹریچر تقسیم کیا جا رہا ہے ۔ جس میں لکھا ہے کہ کیا مرزا قادیانی عورت تھی یا مرد مرزا کے ساتھ خدا کا بد فعلی کرنا " ، " مرزا کو حیض آنا “، ” مرزا کا حاملہ ہونا ، در وزہ سے تکلیف پانا ، مگر وہ افسر جو احراریوں کے جلسہ کے موقع پر احمدیوں کو کیمرے رکھنے سے روکتے تھے آج کہتے ہیں کہ ہم ایسے لٹریچر کو روک نہیں سکتے ۔ اگر اس وقت کوئی ایسا قانون تھا جس کے ماتحت احمدیوں کو کیمرے رکھنے سے روکا جا سکتا تھا مگر آج گندہ لٹریچر روکنے کے لئے کوئی قانون نہیں تو معلوم ہوا کہ اُس وقت کوئی ایسا دماغ کام کر رہا تھا جو آج نہیں ہے۔ اُس وقت فتنہ و فساد پھیلانے والے ان حکام کے چیلے چانٹے تھے جن کا اس فتنہ میں ہاتھ ہے اس لئے وہ ان کی شرارت انگیز حرکات پر خوش ہوتے تھے اور احمدیوں کو انکی حرکات کا ثبوت بہم پہنچانے سے روکتے تھے تا کہ ضلع کے منصف مزاج حاکم یا اوپر کے حکام ان کی حقیقت سے نا واقف رہیں مگر آج کل جماعت احمد یہ کے لوگ جبکہ کثرت سے یہاں آئے ہوئے ہیں، فتنہ پرداز گالیاں دیتے اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی توہین کرتے ہیں تو پولیس کے وہی افسر خوش ہوتے ہیں کہ وہ اشتعال انگیز باتیں کر رہے ہیں ۔ میں سمجھتا ہوں اس قسم کی اشتعال انگیزی بھی ہم پر اثر نہیں کر سکتی کیونکہ ہمیں ایسی تعلیم دی گئی ہے جس نے ہمیں گلیہ جکڑ رکھا ہے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرمایا کرتے تھے سچا مومن خصی ہو جاتا ہے۔ پس حکومت کے افسروں کو پولیس اور سول کے حکام کو اور احراریوں کو معلوم ہونا چاہیئے کہ باوجود ان اشتعال انگیزیوں کے جو وہ کر رہے ہیں، ہم بالکل پُر امن ہیں