انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 335 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 335

انوار العلوم جلد ۱۳ 335 سردار کھڑک سنگھ اور ان کے ہمراہیوں کو دعوت حق کیا فائدہ۔ جب یہ بات آپ کے اختیار کی ہے تو قوم کو اس عرصہ تک ظلم کا تختہ مشق بنا رہنے دینے میں آپ نے سخت غلطی کی ہے اور آپ خدا تعالیٰ کے سامنے جوابدہ ہوں گے ۔ اُٹھیئے اور اس ظلم کو مٹا کر قوم وملت کی دعائیں لیجئے لیکن اگر یہ بات آپ کے اختیار کی نہیں تو سمجھ لیجئے کہ وہ بات کہنی اور اُس بات کا دعوی کرنا جو انسان کے اختیار میں نہیں کتنا بڑا گناہ ہے۔ اور ایسے دعوئی سے آپ پر کتنی بڑی ذمہ واری آتی ہے۔ کی ہے۔ سردار صاحب! تیسری بات آپ نے پ نے یہ کہی ہے کہ اگر احمدی ظلم سے باز نہ آئے تو آپ قادیان اینٹ سے اینٹ بجا دیں گے اور ان کے ظلموں میں سے ایک ظلم آپ نے مذبح کا اجراء بتایا اوّل تو میں آپ سے یہ کہنا چاہتا ہوں کہ سکھ قوم ایک موحد قوم ہے ان کے گرو کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انہوں نے خالص توحید کی تعلیم دی، پھر آپ یہ بتائیں کہ مذبح پر آپ کو اس قدر جوش کیوں آتا ہے۔ ہندو تو گائے کو برہمنی اوتار سمجھتے ہیں، اس لئے ان کے غصہ کی وجہ تو سمجھ میں آ سکتی ہے مگر آپ تو حید کا دعویٰ رکھتے ہوئے اس قسم کا جوش کس طرح دکھا سکتے ہیں ۔ اگر تو حید کا دعوی صحیح ہے تو اونٹ گھوڑا اور گائے بھینس سب کا درجہ آپ کے نزدیک ایک ہونا چاہیئے لیکن ان جانوروں کے ذبح ہونے پر آپ کو جوش نہیں آتا ۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یا یہ جوش سیاسی ہے اور ہندوؤں سے سمجھوتہ کرنے کی نیت سے ہے۔ یا پھر اپنے ست گرؤوں کی توحید کے مغز کو آپ نے نہیں سمجھا۔ بے شک اگر آپ یہ کہیں کہ ہماری سیاسی ضرورتیں بھی مجبور کرتی ہیں کہ ہم ہندوؤں کے ساتھ اتحاد رکھیں اور اس لئے ہمیں گائے کی حفاظت کرنی پڑتی ہے تو میں اسے ایک جائز فعل کہوں گا مگر اسے دین کا جز وقرار دینا میرے نزدیک سکھی مذہب کے مغز کے خلاف ہے۔ اس کے علاوہ میں آپ سے پوچھتا ہوں کہ کیا قادیان کی گائیں خاص طور پر مقدس ہیں کہ آپ کو اپنا غصہ یہاں آ کر ظاہر کرنے کی ضرورت ہوئی ۔ آپ کے وطن سیالکوٹ میں روزانہ اتنی گائیں ذبح ہوتی ہیں کہ قادیان میں سال میں اتنی نہیں ہوتیں آپ نے سیالکوٹ کی اینٹ سے اینٹ کیوں نہ بجائی بلکہ کیوں نہ ان سکھوں کے گھروں کی اینٹ سے اینٹ بجائی جو گائے کے پٹھے کی تندیاں بناتے اور فروخت کرتے ہیں اور لاکھوں روپیہ کا بیو پار سا لا نہ ان کا اس تجارت سے ہوتا ہے۔ اگر واقعہ میں آپ کے دل میں گائے کی اِس قدر عظمت ہے تو پہلے آپ کو سیالکوٹ کی اینٹ سے اینٹ بجا دینی چاہیئے اور آپ کے ہمراہی کو اس کا ملبہ سمندر میں جا کر گرا