انوارالعلوم (جلد 13) — Page 297
انوار العلوم جلد ۱۳ 297 تحقیق حق کا صحیح طریق اُدھر اعتراض کر ولیکن اس کا کیا جواب ہے اور یہ کیا راز تھا۔ یہی باتیں حضرت مرزا صاحب میں دکھائی دیتی ہیں اور علی بَيِّنَةٍ مِّنْ رَّبِّهِ کی یہی مثال آپ میں ملتی ہے۔ آپ کو بھی الہام ہوا۔ يَعْصِمُكَ اللهُ مِنَ النَّاسِ ۲۸ دوسری پیشگوئی آپ کی یہ تھی کہ اِنِّی مُهِينٌ مَنْ أَرَادَاهَانَتَكَ وَإِنِّي مُعِينٌ مَنْ اَرَادَ إِعَانَتَكَ ٢٩ یعنی جو تیری تو ہین کے لئے کھڑا ہو گا، میں اس کی توہین کروں گا اور جو تیری مدد کے لئے کھڑا ہوگا، میں اس کی مدد کروں گا۔ غور کرو یہ کتنا بڑا دعوٹی ہے۔ ایک دشمن کے متعلق بھی کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ ذلیل ہو گا مگر یہاں ایک قانون بیان کیا گیا اور آپ اتر پ اتنا بڑا دعویٰ کرتے ہیں ادھر آپ یہ الہام شائع کرتے ہیں او آپ کے بہت پرانے دوست مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی آپ کی مخالفت کیلئے کھڑے ہو جاتے ہیں اور اعلان کرتے ہیں کہ میں نے ہی اس کی تعریف کر کے اسے اس قدر عروج پر پہنچایا تھا اور اب میں ہی اسے نیچے گراؤں گا ۔ دیکھو کتنا بڑا مقابلہ ہے ۔ ایک طرف مرزا صاحب ہیں جن کے سب لوگ مخالف ہیں حتی کہ مہدویت کا دعویٰ کرنے کی وجہ سے حکومت کی آنکھ میں بھی آپ کی پ کھٹکتے ہیں، عیسائی عیسائی اس اس واسطے واسطے دیم دشمن تھے کہ یہ ہمارے خدا کی موت ثابت ثابت ک کرتا ہے، ہندؤ مسلمان غرضیکہ سب آپ کے مخالف تھے مگر اس وقت آپ نے اعلان کیا کہ مجھے خدا تعالیٰ نے فرمایا ہے ۔ اِنِّي مُهِينٌ مَنْ اَرَادَاهَانَتَكَ وَإِنِّي مُعِينٌ مَنْ أَرَادَ إِعَانَتَكَ اس کے بعد آپ کے مقابلہ کے لئے وہ شخص اُٹھا جو اپنے کو مسلمانوں کا ایڈووکیٹ لکھا کرتا تھا اور تمام اہلحدیث جس کے تابع تھے ۔ اس نے غرور سے کہا کہ میں نے اس شخص کو اوپر اٹھایا تھا اور آب میں ہی اسے گراؤں گا ہے۔ یہ دونوں۔ یہ دونوں میدان مقاب مقابلہ میں تھے۔ ایک کی طرف بظاہر کوئی بھی نہیں تھا مگر دوسرے کی طرف سارا ہندوستان بلکہ غیر ممالک کے لوگ بھی تھے ۔ اب ہم دیکھتے ہیں کہ نتیجہ کیا نکلا؟ اس کے لئے بھی ہمیں کہیں دور جانے کی ضرورت نہیں ۔ مولوی محمد حسین صاحب نے جب یہ دعویٰ کیا اس پر آج ۴۴ سال گذر گئے ہیں ۔ اب دیکھو یہ دعوی کرنے والا کہاں ہے اور کیا اس کے ماننے والوں میں سے کوئی باقی ہے۔ اور نہیں، میں کہتا ہوں اس کی اپنی اولاد سے ہی اس کی تعریف کرا دو۔ اس کی اولاد بھی اسے گالیاں دینے والی ہے ۔ ایک لڑکا آر یہ ہو گیا تھا اور مولوی محمد حسین صاحب نے مجھ سے اپیل کی کہ اسے بچاؤ۔ چنانچہ میں نے اپنے آدمی بھیج کر اسے دوبارہ مسلمان کیا لیکن جس شخص کے متعلق اس نے کہا تھا کہ میں اسے گراؤں گا کیا وہ گر گیا یا کم سے کم آج اس کی وہی حالت ہے جو پہلے تھی ؟ ایک دن بھی ایسا نہیں آتا جب اس کی جماعت میں ہے۔