انوارالعلوم (جلد 13) — Page 295
انوار العلوم جلد ۱۳ 295 تحقیق حق کا صحیح طریق والسلام میں ہی یہ تمام دنیا کو چیلنج پھر صرف یہی نہیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ وا بات تھی بلکہ آپ آگے بھی یہی چیز دے گئے ہیں اور آپ کے طفیل مجھے بھی ایسے قرآن کریم کے معارف عطا کئے گئے ہیں کہ کوئی شخص خواہ وہ کسی علم کا جاننے والا اور کسی مذہب کا پیرو ہو قرآن کریم پر جو چاہے اعتراض کرے اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس قرآن سے ہی اس کا جواب دوں گا۔ میں نے بار ہا دنیا کو چیلنج کیا ہے کہ معارف قرآن میرے مقابلہ میں لکھو حالانکہ میں کوئی ما مور نہیں ہوں مگر کوئی اس کے لئے تیار نہیں ہوا اور اگر کسی نے اسے منظور کرنے کا اعلان بھی کیا تو بے معنی شرائط سے مشروط کر کے ٹال دیا۔ مثلاً یہ کہ بند کمرہ ہو کوئی کتاب پاس نہ ہو۔ مگر اتنا نہیں سوچتے کہ اگر خیال ہے کہ میں پہلی کتب اور تفاسیر سے معارف نقل کرلوں گا تو وہی کتب تمہارے پاس بھی ہوں گی تم بھی ایسا ہی کر سکتے ہو ۔ پھر اگر میں دوسری کتب سے نقل کروں گا تو خود اپنے ہاتھ سے اپنی ناکامی ثابت کر دوں گا ۔ کیونکہ میرا دعویٰی تو یہ ہے کہ نئے ۔ نئے معارف بیان کروں گا لیکن مقابلہ کے وقت جب پرانی تفاسیر سے نقل کرلوں گا تو خود ہی میرے لئے شرمندگی اور ندامت کا موجب ہو گا ۔ مگر میں جانتا ہوں یہ سب بہانے ہیں حقیقت یہ ہے کہ کسی کو سامنے آنے کی جرأت ہی نہیں ۔ مخالفوں کی ناکامی تیسری چیز عسلی بَيْنَةٍ من رب کے سلسلہ میں وہ منجزات اور مِّنْ پیشگوئیاں ہیں جو رسول کریم ﷺ نے بیان کی ہیں ۔ آپ نہایت خطرناک دشمنوں میں گھرے ہوئے تھے مگر آپ نے دعویٰ کیا کہ اللهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ال مکہ والوں نے سارا زور لگایا کہ آپ کو قتل کریں ، آخر کار تجویز کی کہ سب مل کر آپ کو ماریں مگر اللہ تعالیٰ نے ہمیشہ آپ کو قبل از وقت ان کے منصوبوں کا علم دیدیا اور آپ بچ گئے ۔ آپ جب غار ثور میں گئے تو دشمن بھی غار کے منہ تک پہنچ گئے ان کے ساتھ ایک بہت بڑا ماہر کھوجی تھا ہمارے علاقہ کے لوگ تو کھوجیوں کی حقیقت سے واقف نہیں ہوتے البتہ اس علاقہ میں رواج ہے، اس کھوجی نے کہا کہ یا تو اس غار میں ہیں یا پھر آسمان پر چڑھ گئے ہیں، اس سے آگے نہیں گئے ۔ لیکن ان لوگوں پر اس قدر تصرف الہی تھا کہ کسی نے جھک کر نیچے نہ دیکھا کہ شاید اس کے اندر ہی ہوں ۔ پھر ایک سردار نے اعلان کیا کہ جو آپ کو پکڑ لائے گا اسے سو اونٹ انعام دیا جائے گا ۔ چنانچ ۔ چنانچہ ایک شخص آپ کے تعاقب میں گیا اور بالکل قریب جا پہنچا مگر جب وہ حملہ کرنے لگتا تو گھوڑ اٹھو کر کھا کر گر پڑتا ۔ تین دفعہ ایسا ہی ہوا آخر وہ سمجھ گیا اور اسی تا۔ ۲۳