انوارالعلوم (جلد 13) — Page 285
انوار العلوم جلد ۱۳ 285 تحقیق حق کا صحیح طریق نَعُوذُ بِاللهِ آپ کا آنا کوئی رحمت نہیں بلکہ زحمت ہو گیا ۔ آپ کے آنے سے نیکی کا رستہ تو بند ہو گیا مگر شر کا نہیں ۔ وگر نہ ماننا پڑے گا کہ جس طرح شیطان کے نمائندے دنیا میں موجود ہیں، اسی طرح محمد مصطفیٰ کے نمائندے بھی آتے رہیں گے ۔ گویا عقلی طور پر بھی ثابت ہو گیا کہ جب مسلمانوں میں گمراہی ہوگی تو اس کے دور کرنے والے بھی ہونے چاہئیں ۔ پھر قرآن کریم سے بھی یہ ثابت ہے ۔ سورۃ فاتحہ میں ار اتحہ میں اللہ تعالیٰ یہ دعا سکھاتا ہے اِهْدِنَا الصِّرَاطَ الْمُسْتَقِيمَ یعنی ہر مسلمان دن میں کئی بار کہے کہ ہمیں ان لوگوں کا سیدھا رستہ دکھا جن پر تو نے انعام کئے ہیں ۔ پھر دوسری جگہ اللہ تعالی قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ جو نصیحتیں ہم مسلمانوں کو کرتے ہیں، اگر یہ ان پر عمل کریں گے تو ان کیلئے یہ بہت اچھی بات ہو گی اللہ تعالیٰ ان کو دنیا میں قائم کر دے گا ۔ اگر ان کے اندر خرابی پیدا ہو گی تو ہم ان کی اصلاح کا بندو بست کر دیں گے اور صراط مستقیم دکھائیں گے چنانچہ فرمایا ہے ۔ وَمَنْ يُطِعِ اللَّهَ وَالرَّسُولَ فَأُولئِكَ مَعَ الَّذِيْنَ أَنْعَمَ اللَّهُ عَلَيْهِمْ مِّنَ النَّبِينَ وَالصَّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاءِ وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَئِكَ رَفِيقًا * لے یعنی جولوگ شامل ہوں اللہ تعالیٰ اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کریں گے وہ اس جماء جماعت میں شام گے جن پر اللہ تعالیٰ نے نعمتیں نازل کیں اور وہ نبیوں، صدیقوں، شہیدوں اور صالحین کی جماعت ہے اور یہ بڑے اچھے ساتھی ہیں اور یہ انعامات محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو نہ ملیں تو اور کس کو ملیں؟ اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور وہ خوب جانتا تھا کہ آئندہ مسلمانوں کو کیا ضرورتیں پیش آئیں گی اور انہیں پورا کرنے کا اس نے مکمل انتظام کر دیا۔ بعض لوگ کہتے ہیں یہاں مَعَ کا لفظ ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ان کے ساتھ ہوں گے ان کو جو درجے حاصل ہوئے وہ حاصل نہ ہوں گے مگر قرآن کریم میں دوسری جگہ آتا ہے ۔ وَتَوَفَّنَا مَعَ الْأَبْرَار کے کیا اس کا یہ مطلب ہے کہ دنیا میں جب کوئی نیک بندہ مرے تو ساتھ ہی یہ دعا کرنے والوں کی جان بھی نکل جائے یا یہ کہ ہمیں نیک کر کے ماریو؟ پھر دوسری جگہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولَئِكَ هُمُ الصَّدِّيقُوْنَ وَالشُّهَدَاءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ ١٢ یعنی جو لوگ اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے اور پہلے رسولوں پر بھی وہ صدیق اور شہداء میں شامل ہیں ۔ اس سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اُ و آلہ وسلم کی اُمت کو کوئی چیز زائد ملنے والی تھی ۔ پس اللہ تعالیٰ مؤمنوں سے وعدہ کرتا ہے کہ ان کو اس دنیا میں اسی طرح جانشین بنائے گا جس طرح پہلی قوموں میں اس نے بنائے اور جو انعام اُن پر کئے وہی ان پر بھی کرے گا ۔ اب ہم قرآن کریم میں دیکھتے ہیں کہ وہ کیا انعام