انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 281 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 281

انوار العلوم جلد ۱۳ 281 تحقیق حق کا صحیح طریق عقیدہ رکھنے والا ہوتا تو وہ کھڑا ہو کر اس وقت یہ نہ کہتا کہ اگر حضرت عیسی علیہ السلام کا زندہ آسمان پر رہنا شرک نہیں تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے آسمان پر جانے سے شرک کیونکر لازم آ سکتا ہے؟ مگر اس وقت سب خاموش رہتے ہیں اور کوئی کچھ نہیں کہتا جو ثبوت ہے اس بات کا کہ اس عقیدہ کا کوئی بھی شخص ان میں نہ تھا۔ دوسری چیز جو اس ضمن میں میں پیش کرتا ہوں یہ رسول کریم منبع ہدایت ہیں در قرآن کریم می له تعالی فراتا ہے اللہ مَنَّ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ اِذْبَعَثَ فِيهِمْ رَسُولًا مِّنْ اَنْفُسِهِمْ يَتْلُوا عَلَيْهِمُ ايتِهِ وَيُزَكِّيهِمُ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ وَإِنْ كَانُوا مِنْ قَبْلُ لَفِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ یعنی اللہ تعالیٰ نے مؤمنوں پر احسان کیا۔ ہر شخص جو مؤمن کہلانا چاہتا ہے غور کرے کہ اللہ تعالیٰ نے انہی میں سے ہے ایک رسول بھیجا، وہ اس کی آیات پڑھ کر سناتا ہے پاک کرتا ہے، کتاب اور حکم حکمت سکھاتا اگر چہ سب کے سب پہلے گمراہ تھے پہلی بات جو اس آیت میں بیان فرمائی ہے وہ یہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی زندگی میں اور اس کے بعد ہر شخص ایمان آپ سے حاصل کرے گا ۔ دوسری یہ کہ آپ سے ایمان حاصل کرنے سے پہلے وہ گمراہ ہو گا گویا تمام وہ لوگ جو آپ کے زمانہ میں ہوئے یا آپ کے بعد وہ آپ کا کلمہ پڑھنے سے قبل گمراہ ہیں ۔ اب غور کرنا چاہئے کہ اگر حضرت عیسی علیہ السلام دوبارہ آئیں تو اس آیت کے ماتحت وہ کیا ہوں گے۔ اس آیت سے تو معلوم ہوتا ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بعثت کے بعد کوئی ایک لمحہ بھی دنیا پر ایسا نہیں آیا اور نہ آئے گا کہ جب آپ کے بغیر بھی کوئی شخص ہدایت یافتہ کہلا سکے گا جو بھی ہدایت لے گا، محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لے گا تو سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا عیسیٰ علیہ السلام نَعُوذُ بِاللهِ ضلال میں سے آئیں گے؟ غور کرو! اگر حضرت عیسی علیہ السلام کی آمد کا عقیدہ رکھ کر اس امر سے انکار کیا جائے تو قرآن کریم کی آیت غلط ٹھہرتی ہے اور اگر یہ مانا جائے تو اس طرح حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی ہتک ہے۔ تو اس آیت میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا کام یہ ہے کہ يَتْلُوا عَلَيْهِمَا يَتِهِ گو یا غیر اللہ کی آیات نہیں سنا سکتے ۔ یہ تو عام بات ہے کہ شاگرد کا کام استاد کی طرف تو منسوب ہو سکتا ہے اور اس وجہ سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ذریعہ ہدایت حاصل کرنے والے مصلحین کا کام اور ان کا آیات پڑھنا رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے منسوب ہو سکتا