انوارالعلوم (جلد 13) — Page 278
انوار العلوم جلد ۱۳ 278 تحقیق حق کا صحیح طریق کی صداقت کا اقرار کرنا ہے اور آپؐ کے دعوئی پر غور کر کے ہم اس نتیجہ پر پہنچ سکتے ہیں کہ محمد کے؟ رسول اللہ ﷺ ہی دنیا کے لئے آخری نجات دہندہ ہیں ۔ کیا مسیح موعود آسمان سے نازل ہوگا ؟ ابتداء میں چونکہ بعض سوالات پیدا ہوتے ہیں اس لئے پہلے میں ان کو لیتا ہوں ۔سب سے پہلے یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ ہم جس شخص کے آنے کے منتظر ہیں، وہ آسمان سے آنے والا ہے اور جب مرزا صاحب آسمان سے نہیں اترے تو ہم کس طرح سمجھ لیں کہ آپ ہی وہ ہیں۔ میں سمجھتا ہوں ہمارے مبلغین نے کل اور آج کی تقریروں میں اس سوال پر بحث کی ہو گی اس لئے مجھے اس کی تفصیلات میں جانے کی ضرورت نہیں ۔ ہاں اجمالی طور پر بعض باتیں میں بیان کرتا ہوں ۔ اگر ہم ٹھنڈے دل سے اس بات پر غور کریں تو ماننا پڑے گا کہ واقعی آسمان سے کسی آنے والے کی انتظار ہمیں نہیں کرنی چاہیئے بلکہ چاہیئے کہ محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے فیض سے ہی پیدا شدہ کوئی شخص کھڑا ہو کر آپ کی امت کی اصلاح اور تنظیم کرے۔ صحابہ کرام کا کا ا عقیدہ که اس مسئلہ صحابہ صحابہ کر پر کرام غور کس کرتے بات کے ہوئے پہلی منتظر چیز تھے یہ ۔ ۔ ہے جو کہ عقیدہ میں ان دیکھنا تک پہنچے چاہئے گا وہی صحیح ہوگا کیونکہ وہ لوگ ہر وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صحبت میں بیٹھنے والے تھے اور انہوں نے جو کچھ اخذ کیا آپ سے کیا۔ رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی وفات پر ایک ایسا واقعہ ہوا جو صاف طور پر ثابت کر رہا ہے کہ صحابہ کرام آسمان سے کسی کے آنے کے منتظر نہ تھے اور اس واقعہ کو اگر کوئی مسلمان ان جذبات محبت کے ماتحت پڑھے گا جو ایک مسلمان کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے ہونے چاہئیں تو اسے مجھ سے متفق ہونا پڑے گا۔ احادیث میں آتا ہے کہ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے تو صحابہ میں یہ خیال پیدا ہوا کہ ابھی منافق موجود ہیں اس لئے ابھی آپ کی وفات بے موقع ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ آپ کی ذات سے ان لوگوں کو اتنی محبت تھی کہ آپ کی زندگی کے مقابلہ میں دنیا کی کوئی چیز انہیں پیاری نہ لگتی تھی اور اپنے عشق کے نشہ میں وہ یہ خیال بھی نہ کر سکتے تھے کہ آپ ان سے جدا ہو جائیں گے ۔ ان کے عشق کا ایک واقعہ مجھے یاد آ گیا جس سے معلوم ہو سکتا ہے کہ کس طرح عورتیں تک آپ سے اخلاص کے نشہ میں محمور تھیں ۔ جنگِ اُحد میں غلط طور پر یہ مشہور ہو گیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم شہید ہو گئے ہیں مگر بات صرف یہ تھی کہ آپ سخت زخمی ہونے کی وجہ سے بے ہوش ہو گئے تھے ۔ جو لوگ