انوارالعلوم (جلد 13) — Page 267
۲۶۷ انوار العلوم جلد ۱۳ مسجد کا دروازہ ہر مذہب کے عبادت گزاروں کیلئے کھلا رہنا چاہئے ہوتا ہوں ۔ اور جا کر اپنی عبادت کر آئیں مگر آپ نے فرمایا کہ یہ مسجد عبادت کے لئے ہی ہے آپ بے شک یہاں اپنی طرز پر عبادت کریں۔ چنانچہ انہوں نے وہیں اپنی صلیبیں رکھیں اور اپنے طریق پر عبادت کی ہے۔ ہاں مسجدوں کے انتظام کے لئے ایک جماعت ذمہ دار ہوتی ہے وہ انتظامی طور پر دخل دے سکتی ہے ۔ مثلاً اگر وہ دیکھے کہ شور پڑتا ہے تو مختلف لوگوں کی عبادت کے لئے علیحدہ علیحدہ وقت مقرر کر سکتی ہے۔ یا اگر کوئی کسی چیز کو خراب کرے تو اسے روک سکتی ہے۔ ایسے انتظامی معاملات میں دخل دینے کا آپ کو بھی حق ہے لیکن اگر عبادت کے معاملہ میں کوئی رکاوٹ پیدا کی گئی تو یہ مسجد پھر خدا کا گھر نہیں بلکہ بندوں کی ایک جگہ ہوگی اور اس صورت میں آپ لوگوں کے لئے کسی برکت کا موجب نہیں ہو سکتی ۔ یہ دوسری مسجد ہے جس کا اس رنگ میں میں نے افتتاح کیا ہے۔ پہلی انگلستان کی مسجد تھی وہاں بھی میں نے کہا تھا کہ میں یہ بتا کر کہ یہ خدا کا گھر ہے اور اس میں ہر شخص کو عبادت کرنے کی اجازت اجازت : ہونی چاہیئے اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ۔ یہاں بھی میں نے بتا دیا ہے کہ مسجد میں خدا کا ذکر بلند کرنے کے لئے ہوتی ہیں ہر ایک کے لئے اس کا دروازہ کھلا ہونا چاہیئے ۔ آپ کا کام صرف یہ ہے کہ اسے صاف رہا رکھیں جیسا کہ ابراہیمی دعاؤں سے پتہ لگتا ہے اس کی آبادی کے لئے کوشش کرتے رہیں، اسے گندہ نہ ہونے دیں با جماعت نماز کا اہتمام کریں، جہاں مسجد ہو وہاں ذمہ داریاں بھی بڑھ جاتی ہیں، نہ ہونے کی صورت میں تو یہ غذر ایک حد تک ہو سکتا ہے کہ مسجد نہ تھی لیکن مسجد بن جانے کے بعد با جماعت نماز میں ہر گز سستی نہیں ہونی چاہئے ۔ پس اپنے گھر کی آبادی کے لئے جو کوشش کرتے ہو وہی اس کے لئے بھی کرو۔ کوئی شخص مکان بنانے کے بعد اسے خالی نہیں چھوڑ دیتا بلکہ رات دن اس میں رہتا ہے اور عقلمند کو اگر زیادہ عرصہ کے لئے کہیں باہر بھی جانا پڑے تو کرایہ پر دے جاتا ہے تا کہ آباد رہے اس سے زیادہ فکر اللہ تعالیٰ کے گھر کی آبادی کی کرنی چاہیئے ۔ جو لوگ اس مسجد کے نزدیک رہتے ہیں وہ پنج وقت اور جو دور رہتے ہیں وہ دو تین وقت ہی یہاں آ کر با جماعت نمازیں ادا کریں اور کوئی وقت ایسا نہ ہو جب یہ مسجد آباد نظر نہ آئے ۔ مساجد اللہ تعالیٰ کا گھر ہوتی ہیں پس یہ مت خیال کرو کہ اس مسجد کی تعمیر کے بعد بھی آپ کی حالت وہی رہے گی جو پہلے تھی ۔ اگر اسی طرح کرو گے جس طرح میں نے بتایا ہے یعنی اسے اپنا نہیں بلکہ خدا کا گھر قرار دو گے تو خدا بھی تم سے وہ سلوک کرے گا جو پہلے نہیں کرتا تھا ۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا ہے کہ اگر بندہ ایک قدم خدا کی طرف بڑھتا ہے تو خدا اس کی طرف دو قدم بڑھتا ہے اگر بندہ چل کر اس کی