انوارالعلوم (جلد 13) — Page 265
۲۶۵ انوار العلوم جلد ۱۳ مسجد کا دروازہ ہر مذہب کے عبادت گزاروں کیلئے کھلا رہنا چاہئے والسلام نے رویا میں دیکھا تھا کہ آپ نے نیا آسمان اور نئی زمین بنائی ہے۔ اس کے حقیقی معنی تو یہی ہیں کہ ساری دنیا میں آپ کے ذریعہ ایک نئی روح پھونکی جائے گی مگر جزوی معنی یہ بھی ہیں کہ جونئی دنیا بھی ہے وہاں کے لوگوں میں سچا ایمان پیدا کر دیا جائے ۔ پس اس قسم کی خواہشات کو مد نظر رکھتے ہوئے کہ اللہ تعالیٰ اس علاقہ میں بھی احمدیت کو مضبوط کر دے تا ظاہری آبادی کی طرح یہاں باطنی آبادی بھی ہو جائے میں یہاں آنے پر آمادہ ہو گیا اور انہی خیالات کے ماتحت میں نے سمجھا کہ اگر دوسری جماعتیں مجھے بلانا چاہیں گی تو میں ان کو جواب دے سکوں گا۔ اس کے بعد میں ایڈریس کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں ۔ پہلے تو ان لوگوں کے لئے دعا کرتا ہوں جنہوں نے مسجد کی آبادی کی کوشش کی اور اس کے لئے کسی نہ کسی رنگ میں قربانیاں کیں اللہ تعالیٰ ان کی خدمات کو قبول فرمائے اور اس کے لئے اجر عظیم عطا کرئے یہ مسجد اس کی سچی عبادت کا مرکز ہو اور اس سے تعلق رکھنے والوں کے دلوں سے کبر اور خیلاء کو جو عبادت کے منافی ہے نکال دے۔ پھر جہاں میں ایڈریس دینے والوں کا شکریہ ادا کرتا ہوں، وہاں ایک امر کے متعلق اظہار افسوس کئے بغیر بھی نہیں رہ سکتا۔ ایشیائی لوگوں میں عام رواج ہے کہ وہ اپنے کاموں کی بنیاد کچھ نہ کچھ جذبات پر رکھتے ہیں۔ یورپین لوگوں میں یہ بات نہیں پائی جاتی ان کے تمام کاموں میں تجارتی رنگ ہوتا ہے ۔ ایشیائی ممالک کا اگر کوئی بادشاہ تخت پر بیٹھے تو وہ قیدیوں کو آزاد کرے گا قاتلوں کو معاف کرے گا، ملازموں کو چھٹیاں دے گا اور انعام اکرام تقسیم کرے گا لیکن یورپ میں اگر کوئی بادشاہ تخت پر بیٹھے تو کسی کو کانوں کان خبر نہیں ہوتی ۔ غرض ہماری دنیا جذباتی دنیا ہے اور یہ ایک ایسی چیز ہے کہ بعض حالات میں مفید ہوتی ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں اس موقع پر جبکہ خدا تعالیٰ نے آپ کو توفیق دی کہ آپ لوگ اس کے نام پر ایک گھر بنائیں، بعض کا جو شکوہ کیا گیا ہے وہ نہیں ہونا چاہیئے تھا۔ میں تسلیم کرتا ہوں کہ انہوں نے مخالفت ک نے مخالفت کی ہو گی مگر یہ سمجھ کر کہ اس یہ سمجھ کر کہ اس طرح وہ دین کی کوئی خدمت کر رہے ہیں انہوں نے مخالفت کی لیکن اب جب خدا تعالیٰ ۔ اب جب خدا تعالیٰ نے آپ کو کامیابی عطا کی تو چاہیئے تھا کہ خدمت کرنے والوں کا شکریہ ادا کرتے مگر مخالفت کرنے والوں کا ذکر چھوڑ دیتے اور دلوں میں ان کے لئے دعا کرتے کہ اللہ تعالیٰ ان کو ہدایت نصیب کرے ۔ ایڈریس کے اس حصہ نے مجھے تکلیف دی ہے۔ خوشی کے موقع پر ایشیائی بادشاہ قیدیوں کو چھوڑ دیتے ہیں اور مخالفت کرنے والے لوگ تو آپ کے قیدی نہ تھے ان کا ذکر چھوڑ دینے میں آپ کا کوئی حرج نہیں ہوتا تھا۔