انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 247 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 247

انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۴۷ احمدیت کے اصول بھی اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرے اور اس کی محبت اور اخلاص کو دل میں ترقی دے رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی محبت میں اپنے آپ کو گداز کر دئے قرآن پر عمل کرے تو ظلی بروزی طور پر اب بھی ان برکات سے حصہ پاسکتا ہے۔ پھر آپ نے اپنے وہ الہامات پیش کئے جو وقتاً فوقتاً پورے ہوئے اور ہو رہے ہیں ۔ ایسی صورت میں کہ دنیا کو قبول کرنے میں گریز کی صورت نہ رہی ۔ سوائے اس کے کہ کسی کو تحقیق کا موقع نہ ملا ہو یا سوچا نہ ہو یا دل پر زنگ لگ چکا ہو اور کسی نے فیصلہ کر لیا ہو کہ خواہ یہ سچے ہوں، میں بہر حال نہیں مانوں گا ۔ حضرت مسیح موعود کی ایک عظیم الشان پیشگوئی گذشتہ ایام میں آپ کا ایک الہام پورا ہوا ہے جو آپ نے اپنی زندگی میں شائع فرمایا تھا۔ آپ کے دوالہام تھے۔ جن میں بتایا گیا تھا کہ ایک ایسے ملک میں جہاں کی حکومت احمدیوں پر ظلم کرتی ہوگی، وہاں اس حکومت کے مقابل پر ایک ایسی پارٹی کھڑی ہو جائے گی جس کی تعداد بہت تھوڑی ہوگی مگر وہ حکومت کی طاقتور اور کثیر التعداد فوج پر غالب آ جائے گی مگر وہ خود بطور ہتھیار ہو گی اپنی ذات میں کوئی خوبی نہ رکھتی ہوگی اس لئے اسے مغلوب کر کے اللہ تعالی ملک کے لئے ایک مفید شخص نادر شاہ نامی کو بادشاہ بنائے گا لیکن ابھی وہ ملک میں پورے طور پر امن وامان قائم نہ کرنے پائے گا اور ملکی ترقیات کیلئے اس شخص کی اشد ضرورت محسوس ہو رہی ہو گی کہ وہ دنیا سے رخصت ہو جائے گا اور لوگ افسوس کے ساتھ کہیں گے کہ آہ! نادر شاہ کہاں گیا ۔ اے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ۱۹۰۵ء میں یہ پیشگوئی شائع کی اور ۱۹۲۸ ء میں ان واقعات کا ظہور شروع ہوا جو اس پیشگوئی سے متعلق تھے ۔ دنیا میں صرف افغانستان کی حکومت ہی ایسی ہے جو احمدیوں پر بطور حکومت تشد داور سختی کرتی ہے۔ دیگر اسلامی ممالک مصر تر کی عرب میں حاکمانہ رنگ میں احمدیوں پر سختی نہیں کی جاتی نہ ہی کسی اور ملک میں ایسا ہوتا ہے۔ افراد کی طرف سے بعض اوقات زیادتیاں ہوتی رہی ہیں مگر وہ ہر جگہ ہی ہوتی رہتی ہیں۔ یہاں بھی ہوتی ہیں مگر بحیثیت ملک و حکومت احمد یوں پر ظلم کرنے والا واحد ملک صرف افغانستان ہی ہے۔ وہاں اس وقت تک علی الاعلان اور حکومت کے فیصلہ کے ماتحت پانچ احمدی شہید کئے جاچکے ہیں جن میں سے ایک کو قتل اور چار کو سنگسار کیا گیا اس لئے وہی ایک ملک ہے جس کے لئے یہ پیشگوئی ہوسکتی ہے۔ چنانچہ بچہ سقہ نے تین سو کے قریب آدمیوں کے ساتھ کابل پر حملہ کیا اور باوجود یکہ امان اللہ خان کے پاس فوج، ہتھیار اور سب قسم کے سامانِ جنگ