انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 222 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 222

انوار العلوم جلد ۱۳ ۲۲۲ اہم اور ضروری امور ہے، یہ خیر خواہی نہیں کہ اسے غافل رکھا جائے اور یہ کہا جائے کہ زمینداروں کی حالت اچھی ہے اور وہ مطمئن ہیں ۔ یہ خان بہادری اور دوسرے خطابات حاصل کرنے والوں کا طریق عمل ہے ۔ ملک اور حکومت کی خیر خواہی اسی میں ہے کہ حکومت کو بتایا جائے کہ زمینداروں کی حالت نہایت ہی نازک ہو چکی ہے اور ملک میں تباہی پھیلتی جا رہی ہے ۔ اگر اس کا انسداد نہ کیا گیا تو چند سال کے بعد زمیندار ہمیشہ کے لئے تباہ ہو جائیں گے۔ ان حالات کی وجہ سے ہماری جماعت کو بھی مالی مشکلات درپیش ہیں لیکن میں سمجھتا ہوں کہ ان مشکلات میں میرے نزدیک کچھ بے برکتی کو بھی دخل ہے۔ ہماری جماعت کے لوگوں کو جتنا کام دین کے لئے کرنا چاہیئے اُتن وہ نہیں کرتے ۔ ہماری جماعت کو یا د رکھنا چاہیئے جو شخص خدا تعالیٰ کا حق ادا نہیں کرتا وہ کسی اور ٹھوکر میں جا پڑتا ہے اور اس وجہ سے اُس کے مال میں کمی ہو جاتی ہے۔ ہماری جماعت کے لوگوں کو اس وجہ سے بھی مشکلات پیش آتی ہیں ۔ اس سال میں نے جو بجٹ تیار کرایا وہ موجودہ آمدنی کے لحاظ سے ہی تیار کرایا گیا ہے ۔ اس سے معلوم ہوا کہ ایک لاکھ روپیہ جو جماعت کو دین کے لئے دینا چاہیئے وہ نہیں دیتی ۔ اس سال کے ابتدائی مہینوں میں جماعت نے کسی قدر ہمت کی تھی اور نتیجہ یہ ہوا تھا کہ قرض میں ترقی نہ ہوئی تھی مگر اب دو تین ماہ سے پھر سستی ہوئی ہے اور نتیجہ یہ ہوا ہے کہ یکدم پچیس ہزار کا بوجھ اور بڑھ گیا ہے۔ اگر جماعتیں اپنے بجٹ کے مطابق رقم پوری کر دیں تو مجھے یقین ہے کہ بغیر چندہ خاص کے سلسلہ کی مالی حالت اچھی ہو سکتی ہے۔ ممکن ہے بعض جماعتوں کو شکایت ہو کہ ان کا بجٹ حساب سے زیادہ مقرر ہو گیا ہے لیکن اُن کے لئے راستہ کھلا ہے اگر کوئی جماعت ایسا خیال کرتی ہے تو اُس کا فرض ہے کہ وجوہات پیش کر کے بجٹ کی اصلاح کرالے لیکن جماعتیں نہ تو اصلاح کرائیں اور نہ بجٹ کو پورا کریں تو یا د رکھیں خدا تعالیٰ کی راہ میں تکبر نہیں چلتا ۔ اس راہ میں وہی کامیاب ہوتا ہے جو اپنے آپ کو سوئی کے ناکہ سے گذارتا ہے ۔ وہ جو تکبر کرتا ہے خدا تعالیٰ کو اس کی پر واہ نہیں ۔ وہی فائدہ حاصل کرتا ہے اور خدا تعالیٰ کے انعامات کا وارث بنتا ہے جو اُس کی راہ میں تذلل اختیار کرتا ہے اور تذلیل کے ذریعہ اُس کی رضا چاہتا ہے۔ پس اگر کسی جماعت کے بجٹ میں غلطی ہو تو اس کی اصلاح کرالے۔ مگر جب اصلاح ہو جائے یا اصلاح نہ کرائی جائے اور مقررہ بجٹ تسلیم کر لیا جائے تو پھر بجٹ کے مطابق چندہ دے۔ پیچھے میں نے اعلان کرایا تھا کہ جو جماعتیں دسمبر تک کا چندہ پورا ادا نہ کریں گی اُن کے متعلق سخت قدم اُٹھایا جائے گا مگر اب میں یہ اعلان کرتا ہوں کہ