انوارالعلوم (جلد 13) — Page 198
انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۹۸ مستورات سے خطاب جو انگریزوں کی ریس اور تقلید میں ہے اور اس فیشن کی رو جنون کی حد تک پہنچ چکی ہے اور ہمارے ملک میں دوسرے ممالک کی ریس سے لڑکیوں کے ڈگریاں حاصل کرنے کی ترقی ہو رہی ہے اور یہ بھی ایک جنون ہے۔ پہلے جنون تھا جہالت کا اور اب جنون ہے موجودہ طریق تعلیم کا ۔ حالانکہ یہ بھی ایک جہالت ہے۔ دوسرے ممالک والے انگریزوں کو دیوانہ علم قرار دیتے ہیں مگر وہ غلط سمجھتے ہیں ۔ انگریز قوم علم جہالت کے لئے نہیں سیکھتی بلکہ وہ ضرورت کے ماتحت مفید علم سیکھتی ہے اور اپنے ملک وملت کیلئے مفید اور فیض رساں ہوتی ہے ۔ اگر چہ ہمارے ملک کو انگریزی تعلیم حاصل کرنے کی ریں تو پیدا ہو رہی ہے مگر نقصان کرنے کیلئے ۔ ابھی چوہدری ظفر اللہ خان صاحب نے سنایا کہ ایک شخص نے یورپ میں اپنے لڑکے کو اعلیٰ تعلیم پانے کیلئے کالج میں بھیجا مگر کہا کہ خود کما کر اور خرچ مہیا کر کے ڈگری لو ہمارے پاس تمہیں دینے کو روپے نہیں ہیں ۔ تو یہ ایک مفید بات ہوئی ۔ مال ضائع نہیں کیا گیا بلکہ بچے کو اپنی قوت باز و پر انحصار رکھنے کی تلقین کی گئی۔ آج کل عورتوں میں ڈگریاں پانے کا جنون پیدا ہو رہا ہے۔ وہ سمجھتی ہیں کہ ہم مہذب نہیں کہلا سکتیں جب تک کہ کوئی علمی ڈگری ہمارے پاس نہ ہو مگر یہ ان کی جہالت کا ثبوت ہے۔ میں نے ارادہ کر لیا ہے کہ اپنی جماعت کی عورتوں کو جہاں تعلیم حاصل کرنے کی ترغیب دوں وہاں یہ بھی بتاؤں کہ کتنی تعلیم اور کیسی تعلیم حاصل کرنی چاہئے ۔ ہر ایک انسان کو خدا تعالیٰ نے کوئی نہ کوئی نعمت دی ہے ۔ بعض کی آواز اچھی ہوتی ہے اور بعض کی تحریر۔ بے شک تحریر بھی اچھی چیز ہے اس کے ذریعہ سے انسان ہزاروں میل پر اثر پیدا کر سکتا ہے اور اظہار مدعا کا یہ بہترین طریق ہے ۔ پھر عورتوں کیلئے میں ایک آسان مثال دیتا ہوں ۔ پہلے سُوئی استعمال ہوتی تھی لیکن اب سلائی کی مشین سے فائدہ اُٹھایا جاتا ہے ۔ پس علم کے معنی ہیں اپنی طاقتوں کو وسیع کرنا اور ضرورت کے مطابق اپنی زندگی کے آرام و آسائش کی چیزیں مہیا کر لینا اور اچھی چیزوں سے فائدہ اُٹھانا اور اُسے ! زوں سے فائدہ اُٹھانا اور اُسے اپنی قوم اور مذہب کیلئے مفید بنانا۔ علم دوقسم کا ہے۔ علم الادیان جس سے دین کو فائدہ پہنچتا ہے اور علم الابدان جس سے جسم کو فائدہ پہنچتا ہے ان دونوں چیزوں کا نام علم ہے اور کسی دوسری شے کا نہیں ۔ مثلاً ایک عورت ہے جو اپنی عمر کو ریاضی کے مسئلے سیکھنے میں گزار دے اور بچوں کی تربیت اور خانہ داری کے فرائض کو چھوڑ دے تو اسے عقلمند یا علم سیکھنے والی کون کہے گا ؟ مرد تو ایسا علم سیکھنے کیلئے مجبور ہے کیونکہ اس نے روزی