انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 193 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 193

انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۹۳ افتتاحی تقریر جلسه سالانه ۱۹۳۳ء سے نہیں ہوا اور نہ یہ حالت انسانی کوششوں کا نتیجہ ہے کہ تم خیال کرو تم بھی کچھ تدبیریں کر لو گے اور موجودہ حالت کو نہ صرف قائم رکھ سکو گے بلکہ بڑھا لو گے یاد رکھو اس بارے میں کوئی انسانی تدبیر کام نہیں دے سکتی ، کوئی انسانی جد و جہد کام نہیں آ سکتی۔ صرف ایک ہی چیز ہے جس سے آج کی ساری رونق قائم ہے اور جس سے یہ رونق ترقی کر سکتی ہے اور یہ چیز تقویٰ اللہ ہے۔ خدا تعالیٰ پر کامل تو کل اور وثوق ہے۔ خدا تعالیٰ کے حضور دعائیں کرنا۔ تیروں سے زیادہ نشانہ پر بیٹھتی ہیں ۔ تلوار سے زیادہ کاری ہوتی ہیں اور توپوں سے زیادہ روکوں کو اُڑا دینے والی ہیں ۔ میرے دوستو ! غور تو کرو۔ اگر اس بزرگ کی گوشہ تنہائی کی دعائیں جب ہمیں یہ دن نصیب کر سکتی ہیں تو کیا ہم اس کی سچی اتباع کرتے ہوئے اور اس کے نقش قدم پر چلتے ہوئے خدا تعالیٰ کے حضور آہ وزاری کریں، اُس کے آگے گڑ گڑائیں، اُس سے مدد طلب کریں تو ہماری چیخ و پکار خدا تعالیٰ کے عرش پر جانے کی بجائے ناکام واپس آ جائے گی اور نئی دنیا پیدا کرنے کے قابل نہ ہوگی ؟ میں نہ تو وعظ کی کوئی حقیقت سمجھتا ہوں نہ تدابیر کے نتائج جانتا ہوں میں تو یہ جانتا ہوں کہ آزمایا ہوا نسخہ چھوڑ نا نادانی ہے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بھی فرماتے ہیں ۔ نسخہ بھی آزما اے آزمانے والے ی ہم اور ہزاروں تدابیر کرتے ہیں ۔ مگر آؤ! وہ نسخہ جس کے پھل ہم اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں وہ بھی آزمائیں بلکہ وہی آزمائیں ۔ خدا تعالیٰ کے آگے عاجزی اور انکسار سے گر جائیں اور کہیں ہمیں طاقت عطا کر کہ ہم بے طاقت ہیں، ہم اُس سے مدد مانگیں اور التجا کریں کہ ہماری کمزوریوں کو دور کر دے، ہم اُس کے آستانے پر گریں اور اپنے نفسوں کو ذبح کر کے اُس سے دائمی حیات طلب کریں ۔ یاد رکھو جو اُس کے آگے گر جائے اُسے وہ رو نہیں کرتا ۔ لوگ کہتے ہیں میں نہیں جانتا، میں نے تو چڑیا گھر سے باہر شیر نہیں دیکھا کہ جو شیر کے آگے گر جائے اُس پر شیر حملہ نہیں کرتا۔ اگر یہ درست ہے تو وہ جو شیروں کا پیدا کرنے والا خدا ہے اُس کے آگے عجز اور انکسار سے گرنے والے کی پکا ر وہ کیوں نہ سنے گا ۔ ہمارے سپرد نہایت ہی عظیم الشان کام ہی عظیم الشان کام کیا گیا ہے۔ ایسا عظیم الشان جو دل کو ہلا دینے والا ہے جس کا قیاس بھی دل کو دل کو بٹھا دیتا اور جس کا خیال بھی لرزہ براندام کر دیتا ہے ۔ ایک نعمت تھی جو آسمان سے اُتری ایک نور تھا جو عرش سے نازل کیا گیا مگر دنیا نے اُس کو دیکھا نہیں، اُسے سمجھا نہیں، اُس کی قدر نہیں کی بلکہ آج دنیا کے نزدیک نَعُوذُ بِالله ) بدترین وجودہ وہی وجود ہے جسے خدا تعالیٰ نے سب کا سردار بنا کر بھیجا۔ یعنی