انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 184 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 184

انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۸۴ أسوة كامل صلى الله خزانہ ہو مگر اسے کوئی علم تک نہ ہو تو اس سے اس کو کیا فائدہ ہوگا ۔ پس قو تیں تو سب میں موجود ہیں اور خدا تعالیٰ نے ہر دماغ میں الہام پانے کی قابلیت رکھی ہے۔ مگر یہ ملتا اُمید اور توکل کے نتیجہ میں ہے اور آپ نے ساری دنیا کے اندر اسکی اُمید پیدا کی کہ اس کے لئے اب بھی الہام کا دروازہ کھلا ہے۔ اور یاد رکھنا چاہیئے کہ الہام کے لئے اُمید اور تو کل ہی دروازہ ہے ۔ خدا تعالیٰ اپنے بندے ۔ رے کے گمان کے مطابق ہی اس سے سلوک کرتا ہے۔ رسول کریم ﷺ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے فرمایا ہے ۔ اَنَا عِنْدَ ظَنَّ عَبْدِی بِی ۲۵ یعنی میرا بندہ میرے متعلق جیسا گمان کرتا ہے، میں اس سے ویسا ہی سلوک کرتا ہوں ۔ اگر وہ کہتے ہیں کہ الہام کا دروازہ بند ہے تو میں بھی کہتا ہوں کہ اچھا بند ہی سہی ۔ اور اگر وہ کہتے ہیں کہ ہم خدا سے مل کر رہیں گے تو ہم بھی کہتے ہیں کہ اچھا آؤ مل لو۔ آپ نے یہ روحانی امید دلائی اور تو کل کا دروازہ کھول دیا۔ غرباء کی امداد کا مکمل انتظام جسمانی طور پر بھی اس کی ایک مثال پیش کرتا ہوں ۔ سب مذاہب نے صدقہ و خیرات کا حکم دیا صلى الله علی نے اس ہے مگر جب تک ایک نظام کے ماتحت یہ کام نہ ہو مکمل نہیں ہو سکتا۔ ہر کوئی کہہ دے گا کہ اچھا اس کے متعلق کوئی علم نہیں مگر رسول کریم دیدیں گے کب دیں گئے کیا دیں گے اس ۔ کے متعلق ایسے قوانین دیئے ہیں کہ ہر وہ شخص جس میں طاقت اور استطاعت ہے، مجبور ہے کہ ان محتاجوں کے لئے جن کے کام کرنے کے سامان نہیں، ہر سال ایک مقررہ رقم ادا کرے جو ایک جگہ جمع ہو اور جو جملہ محتاجوں میں تقسیم کر دی جائے ۔ اس طرح غرباء کو اوپر اٹھایا جائے ۔ اور یہ بھی رحمانیت کے ماتحت کام ہے ۔ وقت نہیں وگرنہ اگر اس کی تفصیلات بیان کی جائیں تو معلوم ہو کہ آپ نے اس سے کس طرح چوری، ڈاکہ اور فسادات وغیرہ کا دروازہ بند کر دیا۔ صفت رحیمیت کا مظہر اتم اعلی سے ان مظہر اتم تیسری صفت رحیمیت ہے جس کے معنی یہ ہیں کہ کام کا سے اعلیٰ بدلہ دیا جائے ۔ ائے۔ اچھے لوگ ہمیشہ ایک دوسرے کے احسانات کا بدلہ دیا کرتے ہیں ۔ مثلاً ایک شخص دوسرے کو کہتا ہے جناب والا تو وہ کوشش کرے گا کہ جواب میں اس کا بدلہ ادا کرے اس لئے کہے گا آئے تشریف لائیے سر آنکھوں پر آئے ۔ ایک کہتا ہے آپ بہت اچھے آدمی ہیں ۔ دوسرا کہتا ہے میں کیا ہوں آپ کا مقابلہ میں کسی طرح بھی نہیں کر سکتا ۔ مگر یہ تہذیب اسی حد تک ہے کہ اپنا نقصان نہ ہو جب ذاتی نقصان کا موقع ہو تو سب کچھ بھول جاتا ہے ۔ دہلی والے میرزا صاحب کہلاتے ہیں اور لکھنوی