انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 182 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 182

انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۸۲ أسوة كامل پھر انسان مر جاتا ہے ۔ اس وقت کا بھی آپ نے خیال موت کے بعد ر بو بیت رکھا اور بتایا کہ کس طرح مردہ کی تجہیز و تکفین کی جائے ۔ آپ ہر قوم کے مُردوں کا احترام کرتے تھے ۔ ایک وفعہ ایک میت جا رہی تھی کہ آپ اس کے احترام کے طور پر اُٹھ کر کھڑے ہو گئے ۔ کسی نے عرض کیا یا رَسُولَ اللہ ! یہ تو یہودی تھا۔ آپ نے فرمایا یہودی بھی تو خدا کا بندہ ہی ۔ تو خدا کا بندہ ہی ہے ۔ پھر فرمایا مر دوں کا ذکر اچھی طرح کیا کرو گے۔ اور کہا جا سکتا ہے کہ محمد رسول اللہ ﷺ نے ہر مرنے والے کی بھی خبر گیری کی اور اس طرح اس کی بھی ربوبیت کر دی اور انسان کی پیدائش سے لے کر اس کی موت تک سب ضروری احکام دے دیئے اور پھر اگر تمام افراد کو علیحدہ علیحدہ لیا جائے تو اس میں بھی آپ کی ربوبیت نظر آئے گی ۔ روحانی ربوبیت سب سے بڑی بات یہ ہے کہ آپ سب کی اُخروی زندگی کے لئے سہارا ہیں ۔ آپ نے ہر قوم کے افراد کو دعوت الہی میں شامل ہونے کیلئے بلایا ہے۔ آپ نے فرمایا ہے کہ سب نبی اپنی اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوئے مگر میں سب اقوام کی طرف بھیجا گیا ہوں ف بھیجا گیا ہوں ۔ یہ نہیں کہ اسلام کسی ۔ کہ اسلام کسی سے کہے کہ تم ہندو ہو، تمہیں عرب کی تعلیم سے کیا واسطہ بلکہ آپ وہ نو ر لائے جس کے متعلق اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ لَا شَرْقِيَّةٍ وَلَا غَرْبِيَّةٍ وجس کا مشرق و مغرب سے کوئی تعلق نہیں ۔ اس رنگ میں بھی آپ نے مظہرِ رَبُّ الْعَالَمِينَ ہونے کا ثبوت دیا۔ حضرت مسیح علیہ السلام کے پاس ایک عورت آئی کہ مجھے اپنی تعلیم سکھایئے مگر آپ کی تعلیم چونکہ محدود طبقہ کیلئے تھی اور وہ عورت اس حلقہ سے باہر تھی اس لئے آپ نے اسے جواب دیا کہ میں اپنے موتی سوروں کے آگے نہیں ڈال سکتا ہے۔ اور بچوں کی روٹی چھین کر گتوں کو نہیں دے سکتا ہے اور اس طرح اُسے بتا دیا کہ میری تعلیم محدود ہے ۔ مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی تعلیم کو سب مخلوقات کے لئے عام کر دیا اور اس طرح آپ رَبُّ الْعَلَمِینَ کے مظہر اتم ٹھہرے۔ غرضیکہ جسمانی اور روحانی دونوں حالتوں میں بھی آپ کی ربوبیت کو عام ربوبیت عام تاق عام پاؤ گے۔ یہودیوں میں سو د منع ہے مگر باہم، غیروں روں سے وہ لے لیتے ہیں۔ آپ نے سُود کو منع فرمایا مگر سب کے لئے ۔ آپ نے حکم دیا کہ اگر کسی مسکین کو حاجت ہے تو اسے سُود پر روپیہ دینا ظلم ہے ۳ گویا گویا جسمانی طریق پر بھی آپ نے امتیاز نہیں رکھا۔ گو افسوس ہے کہ مسلمانوں میں بعض لوگ ایسے پیدا ہو گئے جو غیروں سے دھو کا جائز سمجھتے ہیں ۔ بعض مولویوں نے فتوی دے رکھا ہے کہ کافر سے سود لینا جائز ہے حالانکہ جب کوئی شخص رحم کا