انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 179 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 179

انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۷۹ أسوة كامل انتخاب کے بعد نکاح کی شرائط طے ہوتی ہیں نکاح کے بارے میں ربوبیت اور پھر ان میں جھگڑا پیدا ہوتا ہے کہ مرد پر زیادہ ذمہ داریاں عائد ہونگی یا عورت پر مرد والے عورت والوں پر حکومت کرنا چاہتے ہیں اور عورت والے مرد والوں پر لیکن یہاں بھی رسول کریم ﷺ آ موجود ہوتے ہیں کہ یہاں بھی میری ایک بات سن لو۔ مرد و عورت کو اللہ تعالیٰ نے ایک ہی جنس سے پیدا کیا ہے کے دونوں کے احساسات یکساں ہیں اور ان میں کوئی فرق نہیں ۔ جیسے بیوی کو اپنے ماں باپ پسند ہیں ویسے ہی میاں کو بھی اور آپ نے ایک ایسا گر بیان فرمادیا جس پر عمل کر کے دونوں فائدہ اُٹھا سکتے ہیں ۔ آپ نے حکم دیا کہ صلہ رحمی کرو سم اللہ تعالیٰ کے حکم کے ماتحت رحمی تعلقات کا لحاظ رکھو ا لحاظ رکھو، قول سدید اختیار کرو گے، یعنی ایک دوسرے ے ۔ کے ساتھ دھوکا نہ کرو غرضیکہ آپ نے نکاح کے متعلق تفصیلی ہدایات دیں۔ جنہیں اگر میں بیان کروں تو یہ تقریر خطبہ نکاح بن جائے گی ۔ مختصر یہ ہے کہ اس موقع پر بھی آپ نے ربوبیت کی ۔ بیوی کی آمد کے موقع پر ربوبیت پھر بیوی گھر آتی ہے۔ اور یہ وہ وقت ہوتا ہے جب شہوانی جذبات غالب آ سکتے ہیں ۔ یہاں رسول کریم ﷺ پھر آ موجود ہوتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ پہلے تھوڑا کام ہمارا کر لو اور دعا کرو ۔ اس تعلق کے نتیجہ میں تمہاری آئندہ نسلیں ہونگی، مانا کہ تم نیک ہو مگر ہو سکتا ہے کہ تمہاری اولا د شریر ہو تو بھی دنیا میں فساد پیدا ہو گا اور تمہارا قائم کیا ہوا تقویٰ ملیا میٹ ہو جائے گا اس لئے خدا سے دعا کرو کہ تمہارے ملنے کا نتیجہ تقویٰ ہو ہے۔ یہ ایسا وقت تھا کہ شہوت چاہتی تھی انسان شہوت کا بیج بوئے ۔ مگر روحانیت چاہتی تھی کہ روحانیت کا بوئے مگر رسول کریم آ کر بتاتے ہیں کہ بے شک تم شہوت کا بیج بو وؤ مگر روحانیت کی چاشنی کے ساتھ ۔ پھر اولاد پیدا ہوتی ہے۔ جو نہی بچہ پیدا ہوتا بچہ کی پیدائش کے وقت ربوبیت ہے آپ اسی وقت اس کی ربوبیت کا کہ اور کسی قوم میں ان خیال فرماتے ہیں ۔ اور اس کی تربیت کے لئے اپنی تفصیلی ہدایات دیتے ہیں کہ اور ما۔ اپنی کی نظیر نہیں ملتی ۔ آپ کا حکم ہے کہ معا بچہ کے کان میں اللہ تعالیٰ کا نام لیا جائے ۔ بچہ اگر چہ اس وقت بظاہر ایک بے جان چیز ہے مگر اس کے کان میں اللہ تعالیٰ کی بڑائی بیان کرنے کا حکم آپ نے دیا اور اس میں دو فائدے ہیں۔ اول یہ کہ اس وقت کی بات کان میں پڑی ہوئی ضائع نہیں