انوارالعلوم (جلد 13) — Page 172
انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۷۲ أسوة كامل اعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ الشَّيْطَنِ الرَّحِيمِ بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَ نُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ أسوة كامل (فرموده ۲۶ نومبر ۱۹۳۳ ء بر موقع جلسه سیرۃ النبی صلی اللہ علیہ وسلم بمقام قادیان ) تشہد ، تعوذ اور سورہ فاتحہ کی تلاوت کے بعد فرمایا:۔ ایک شکایت اصل مضمون شروع کرنے سے قبل میں ایک تحریر کے متعلق کچھ کہنا چاہتا ہوں جو اسی وقت مجھے دی گئی ہے۔ اس پر چند ہند و اصحاب کے دستخط ہیں اور انہوں نے شکایت کی ہے کہ آج ایک جلوس ان کی گلیوں میں سے گزرا جس کا پہلے دستور نہ تھا اور کہ اس میں شامل ہونے والے بعض طالب علموں کا رویہ ناپسندیدہ تھا۔ پیشتر اس کے کہ میں یہ معلوم کروں کہ ان کے رویہ میں کیا نا پسندیدگی تھی جس کے متعلق اگر وہ مجھے بعد میں اطلاع دیں گے تو میں ہر نا پسندیدہ رویہ کے متعلق نوٹس لوں گا لیکن عام نصیحت میں تحقیق سے پہلے ہی کر دیتا ہوں کہ اگر کسی نے کوئی ناپسندیدہ حرکت کی تو یہ بہت ہی ناپسندیدہ بات تھی ۔ یہ دن ہم نے اس بات کی تیاری کے لئے مقرر کیا ہے کہ مختلف اقوام میں صلح و آشتی کی بنیاد بن سکے اور وہ دن جسے ہم اقوام میں صلح کی بنیاد بنانا چاہتے ہیں اور جسے ہم آہستہ آہستہ اس صورت میں تبدیل کرنا چاہتے ہیں کہ سب مذاہب کے بزرگوں کو اچھے ناموں سے یاد کیا جائے ۔ تا مختلف مذاہب کے ماننے والوں میں جو کدورت ہے وہ دور ہوا اور پیار بڑھے۔ اس دن کسی کا دل دکھانا جو پہلے ہی اسلامی تعلیم کی رو سے ناپسندیدہ بات ہے ۔ اور مسلمان کو اس بات سے جس سے دوسرے رے کو کو دکھ ہو مجتنب رہنے کا حکم ہے، خصوصیت سے ناپسندیدہ بات ہے۔ اور اس دن بالخصوص اس بات کا لحاظ کرنا چاہیئے کہ ایسی بات نہ کی جائے جس سے کسی کا دل دکھے ۔