انوارالعلوم (جلد 13) — Page 166
انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۶۶ رحمة للعالمين ہیں ۔ سے منور اور جن کے سینے تیری محبت کے پھولوں سے رشک صد مرغزار بن رہے ہیں ۔ آہ میں کس طرح مانوں کہ تو بھی بیٹیوں کی طرح یہ دیکھتا ہے کہ کس کی تھیلی میں کیا ہے اور یہ نہیں دیکھتا کہ کسی کے دل میں کیا ہے۔ مگر میرے خیالات کی روکو پھر اسی عقدہ کشا آواز نے روک دیا وہ ناز و رعنائی سے بلند ہوئی ۔ اس ناز سے کہ کسی معشوق کو کب نصیب ہوا ہو گا ، اس شان سے کہ کسی بادشاہ کو خواب میں بھی حاصل نہ ہوئی ہوگی اور اس نے کہا کہ اے کام کرنے والو۔ اے خدا کی راہ میں جانیں قربان کرنے والو ! مت خیال کرو کہ خدا کے حضور میں تم ہی مقبول ہو اور اس کے انعامات کے تم ہی وارث ہو یا د رکھو کہ کچھ تمہارے ایسے بھائی بھی ہیں کہ جو بظاہر ان عمل کی وادیوں کو نہیں طے کر رہے جن کو تم طے کر رہے ہو، ان کٹھن منزلوں میں سے نہیں گزر رہے جن میں سے تم گزر رہے ہو۔ لیکن پھر بھی وہ تمہارے ساتھ ہیں ۔ تمہارے شریک ہیں، تمہارے ثوابوں کے حصہ دار اور خدا اتعالیٰ تعالیٰ ۔ کے ایسے ہی مقرب ہیں جیسے کہ تم ۔ میں نے دیکھا نیکوکاروں کی وادی میں ایک عظیم الشان ہلچل پیدا ہوئی اور سب بے اختیار چلا اٹھے کہ کیوں ایسا کیوں ہے؟ اس مقدس آواز نے جواب دیا اس لئے کہ گو ان کے ہاتھ پاؤں بوجہ خدا تعالیٰ کی پیدا کردہ معذوریوں کے تمہارے ساتھ شامل ہونے کی اجازت نہیں دیتے مگر ان کے دل تمہارے ساتھ ہیں ۔ جب تم عمل کی لذتوں سے مسرور ہو رہے ہوتے ہو وہ غم اور حرمان کے تلخ پیالے پی رہے ہوتے ہیں ۔ بے شک جام مختلف ہیں، بے شک شراب جداجدا ہے لیکن کیف میں کوئی فرق نہیں نتیجہ ایک ہی ہے تم جس مقام کو پاؤں سے چل کر پہنچتے ہو وہ دل کے پروں سے اُڑ کر جا پہنچتے ہیں ۔ ان کو نا پاک مت کہو جو ان سے نیک ہیں وہ تم میں سے پاکیزگی میں کم نہیں ۔ میری روح وجد میں آ گئی میرا دل خوشی سے ناچنے لگا میں نے کہا صَدَقْتَ يَا رَسُولَ الله انصاف اس کا نام ہے، عدل اس کو کہتے ہیں میرے دل سے پھر ایک آہ نکل گئی اور میں نے کہا طاقت ور کے ساتھی تو سب ہوتے ہیں مگر یہ آواز معذوروں کیلئے بھی رحمت ثابت ہوئی ۔ آئندہ نسلوں کیلئے رحمت میں کہاں کہاں تم کو اپنے ساتھ لئے پھروں میں نے اس عالم خیال میں بیسیوں اور مقامات کی سیر کی لیکن اگر میں ان کیفیات کو بیان کروں تو یہ مضمون بہت لمبا ہو جائے گا اس لئے میں اب صرف ایک اور نظارہ کو بیان کر کے اس مضمون کو ختم کرتا ہوں ۔ میرے دل میں خیال آیا کہ یہ غیبی آواز ماضی کیلئے بھی رحمت ثابت ہوئی اور حال کے لئے بھی مگر اس کا معاملہ مستقبل کے ساتھ کیسا ہے۔