انوارالعلوم (جلد 13) — Page 137
انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۳۷ آہ ! نادر شاہ کہاں گیا پہلو ہیں اور غالب ہے کہ وہ دونوں پہلو ہی پورے ہوں کیونکہ سنت اللہ یہ بھی ہے کہ بعض دفعہ الہام کے کئی پہلو ہوتے ہیں اور وہ سب پورے ہو جاتے ہیں ۔ خلاصہ یہ کہ اللہ تعالیٰ نے افغانستان کے متعلق ۳۔ مئی ۱۹۰۵ ء کو حضرت مسیح خلاصہ بیان موعود علیہ الصلوۃ والسلام پر دو وجیوں کے ذریعہ سے کچھ اخبار غیبیہ ظاہر کیں ۔ جن میں ایک طرف تو بچہ سقہ کی قلیل جماعت کے ساتھ امان اللہ خان پر فتح کا ذکر تھا اور پھر اس کے بعد یہ اطلاع تھی کہ نادر خان اُس وقت کہیں باہر ہوں گے ملک اُن کی خواہش کرے گا وہ واپس آکر دشمن پر فتح پائیں گے اور بادشاہ ہو جائیں گے۔ ان کا نام نادر خان سے نادرشاہ ہو جائے گا اس کے بعد پھر وہ ایک حادثہ عظیمہ کا شکار ہوں گے اور اچانک ان کی موت واقع ہوگی ۔ اور لوگ سخت ما تم اور غم میں مبتلا ہوں گے اور ان کی موت کو ملک کا بہت بڑا نقصان سمجھا جائے گا۔ یہ پیشگوئی اُس وقت کی گئی تھی جبکہ نادرا بھی ایک نا تجربہ کار نوجوان تھے اور ان کے لئے اعلیٰ عہدہ پر پہنچنے کا کوئی بھی امکان نہ تھا۔ اب اے لوگو ! جو تلاش حق رکھتے ہو اور جن کو دنیا کی محبت خدا تعالیٰ کا خالص غیب نے علی کی بیاد بالکل ہی فراموش نہیں کرانوی نہیں آپ لوگوں سے پوچھتا ہوں کہ کیا اس قدر عظیم الشان اخبار پچیس اور تیس سال پہلے ایسے حالات میں بتا دینا کسی انسان کا کام ہو سکتا ہے؟ اگر انسان بھی ایسا کر سکتا ہو تو خدا کے رسولوں کی سچائی کا ثبوت ہی کیا ہوا اور خدا تعالیٰ کے کلام کی عزت ہی کیا رہے۔ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ عَالِمُ الْغَيْبِ فَلَا يُظْهِرُ عَلَى غَيْبِهِ أَحَدًا إِلَّا مَنِ ارْتَضَى مِنْ رَّسُولٍ خدا تعالیٰ اپنے غیب کو سوائے رسولوں کے کسی پر ظاہر نہیں کرتا ۔ اب اگر ایک مفتری اور نَعُوذُ بِاللهِ شیطان سے تعلق رکھنے والا شخص اس قدر عرصہ پہلے اس قدر لمبا سلسلہ غیبی امور کا بتا سکتا ہے تو بتاؤ کہ قرآن کریم کی سچائی کا کیا ثبوت رہ جائے گا ؟ حکومتوں کا تغیر معمولی بات نہیں اور پھر پُرانے خاندانوں کی حکومت کا خصوصاً ایشیائی ممالک میں بدل جانا اور بھی عجیب بات ہے۔ اور اگر حکومت بدلے بھی تو کون کہہ سکتا ہے کہ وہ فلاں شخص کے پاس جائے گی ۔ اس شخص کی اس قدر لمبی عمر کا ضامن ہی کون ہو سکتا ہے اور اگر وہ زندہ رہے تو اس کا کون ضامن ہو سکتا ہے کہ اس کی قوتیں اُس وقت تک اس کا ساتھ دیں گی اور وہ اس موقع پر عملی طور پر کوئی حصہ لے سکے گا اور پھر یہ کہ وہ