انوارالعلوم (جلد 13)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 133 of 531

انوارالعلوم (جلد 13) — Page 133

انوار العلوم جلد ۱۳ آہ ! نادر شاہ کہاں گیا امان اللہ شاہ کے القاب کسی نے سنے؟ وہاں تو شاہ کا لقب بادشاہ کیلئے ہے ہی نہیں ۔ بلکہ ہم کہیں گے کہ ہندوستان میں کسی معتبر تحریر میں عبد الرحمن شاہ یا حبیب اللہ شاہ وغیرہ نہیں ملتے ۔ پس اگر یہ الہام افغانستان کے مافی الضمیر کی ترجمانی ہوتی تو شاہ کا لقب نہ ہوتا بلکہ نادر خان کا لقب ہوتا ۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ نادر شاہ والا الہام کسی اور موقع کے لئے ہے امیر نادر خان کے متعلق نہیں ،، میں سمجھتا ہوں، یہ تحریر مولوی ثناء اللہ صاحب کے اخبار اہلحدیث میں اللہ تعالیٰ نے لکھوائی اخباراہلحدیث ۔ ہے۔ اس قدر شدید دشمن اخبار اس امر کا اقرار کرتا ہے کہ نادر خان کا نادر شاہ کہلا نا افغانستان کے لوگوں کے حالات اُن کی زبان اور اُن کی تاریخ کو مد نظر رکھتے ہوئے ناممکن ہے۔ ہم کہتے ہیں یہ بالکل درست ہے اس میں کوئی شک نہیں کہ افغانستان کے سابق بادشاہ شاہ نہیں کہلاتے تھے۔ یہ بھی درست ہے کہ امان اللہ خان بھی بادشاہ ہو کر امان اللہ شاہ نہیں کہلائے بلکہ شاہ امان اللہ یا امان اللہ خان شاہ افغانستان کہلائے۔ اور یہ سچ ہے کہ افغانستان کے لوگوں کے ذہنوں میں اپنی قومی روایات کے خلاف یہ خیال نہیں آ سکتا تھا کہ وہ نادر خان کو نادر شاہ شاہ افغانستان کہنے لگیں مگر دوسری طرف یہ امر واقعہ ہے کہ نادر خان بادشاہ ہوتے ہی نادر شاہ کہلانے لگے۔ افغانستان اور ہندوستان کے جرائد انہیں نادر شاہ لکھتے چلے آئے ہیں اور لکھ رہے ہیں اور جیسا کہ ان کے بھائی اور وزیر سردار شاہ ولی خان صاحب کے بیان سے ثابت ہے افغانی حکومت نے ان کا یہی نام تجویز کیا تھا ۔ پس اے وہ لوگو جن کے دل میں خدا کا خوف ہے، جو مرنے پر اور مرنے کے بعد دوبارہ جی اٹھنے پر یقین کرتے ہو خدا را مجھے بتاؤ کہ وہ کون سی طاقت تھی جس نے اس نا ممکن امر کو ممکن کرا دیا۔ جسے مولوی ثناء اللہ صاحب جیسے دشمن سلسلہ کا اخبار بھی نا ممکن قرار دیتا ہے اور جو بظاہر حالات واقعہ میں نا ممکن تھا۔ کیا اسی زبر دست خدا نے نہیں جس نے ۳ مئی ۱۹۰۵ ء کو پورے پچیس سال پہلے بانی سلسلہ احمدیہ کے الہام میں نادر کا نام نادر شاہ رکھا تھا۔ کیا اس زبر دست نشان کو دیکھتے ہوئے بھی تم انکار کرتے چلے جاؤ گے؟ کیا اب بھی تم خدا کے مامور کو قبول نہیں کرو گے؟ کیا اب بھی تم اپنے پیدا کرنے وا۔ نے والے سے صلح نہیں کرو گے؟ اور دہر میں اور انکار کے گڑھوں میں گرے رہو گے؟ اگر ایسے زبردست نشان بھی جن کے ناممکن ہونے کا دشمن بھی اقرار کرتا ہے تمہارے سمجھانے کے لئے کافی نہیں؟ اگر نہیں تو بتاؤ کہ تم خدا تعالیٰ سے دہریت الله الله