انوارالعلوم (جلد 13) — Page 126
انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۲۶ آہ ! نادر شاہ کہاں گیا ہے کہ ہر صحیح الفطرت انسان کے سمجھنے کے لئے کافی ہے۔ کاش! جو آنکھیں رکھتے ہیں دیکھیں اور جو کان رکھتے ہیں سنیں اور جو دل رکھتے ہیں ایمان لائیں تا کہ خدا کے فضلوں کے وارث ہوں ۔ بچہ سقہ کے ہاتھوں امان نادرخان کا بادشاہ بننا اور ناگہانی وفات پانا اللہ ان کی اول خال شکست سے یہ الہام پورا ہو جانا تھا اور کنکر اپنا کام کر چکنے کے بعد پھر کنکر ہی بن جانے تھے لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی دعا میں یہ لفظ تھے کہ خدا تعالیٰ حبیب اللہ خان سے یہ سلوک کرے کہ نہ وہ زندہ رہے اور نہ مرے اور یہ اسی طرح ہو سکتا تھا کہ اُس کی اولاد تو باقی رہے لیکن اُن کے پاس حکومت نہ باقی رہے۔ لیکن یہ ظاہر ہے کہ اگر بچہ سقہ تخت کابل پر قائم رہتا تو امان اللہ خان کو حکومت واپس لینے کا بہت موقع تھا کیونکہ بچہ سقہ میں تدبیر ملکی کی لیاقت نہ تھی اور اس کی طبیعت میں خشونت اور سختی بھی تھی اور اس کے نائب کنکروں کی طرح صرف پچھنا ہی جانتے تھے ملک کیلئے خیر کا کام کرنا اُن کی طاقت سے بالا تھا اور چونکہ وہ پیشگوئی کو پورا کر چکا تھا خدا تعالیٰ کی نصرت سے بھی محروم ہو چکا تھا ۔ پس خدا تعالیٰ نے چاہا کہ اُس سے وہ کام لے کر جو اُس کے لئے ازل سے مقدر ہو چکا تھا حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی خواہش کو کہ حبیب اللہ خان نہ زندہ رہے نہ مردہ کسی دوسرے شخص کے ہاتھ سے پورا کرائے ۔ چنانچہ اس کے لئے اُس نے نادر خان کو چنا اور اس کی خبر حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو اس پہلے الہام کے ساتھ ہی اُسی دن اِن الفاظ میں دی کہ آہ ! نادر شاہ کہاں گیا جس میں یہ بتایا گیا کہ اس پہلے واقعہ کے بعد نادر بادشاہ افغانستان ہوگا اور بادشاہ بننے کے بعد ایک آفت ناگہانی کے ذریعہ سے اس کی موت واقع ہو گی حتی کہ سب ملک چلا اٹھے گا کہ آہ ! نادر شاہ کہاں گیا ۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور بچہ سقہ کو خدا تعالیٰ نے جرنیل نادر خاں کے ہاتھوں سے شکست دلا کر ۳۔ مئی ۱۹۰۵ء کے دوسرے الہام کو پورا کرنے کے سامان پیدا کرا دیئے اور اس امر کا بھی انتظام کرا دیا کہ امان اللہ خان دوبارہ بادشاہ نہ ہو سکے اور امیر حبیب اللہ خان کے خاندان کے لئے یہ آسمانی فیصلہ جاری ہو جائے کہ وہ نہ مریں اور نہ زندہ رہیں ۔ کنا نادر شاہ کی وفات کی خبر لیکن جہاں اس الہام میں یہ بردی گئی تھی کہ کروں سے کام لینے کے بعد اللہ تعالیٰ ایسے سامان پیدا کر دے گا که نادر نامی ایک شخص بادشاہ ہو جائے گا اور اُس کے ذریعہ سے امیر حبیب اللہ خان کی اولاد کو