انوارالعلوم (جلد 13) — Page 122
انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۲۲ آہ ! نادر شاہ کہاں گیا سے صرف اس جرم میں کہ وہ احمدی تھے اور احمدیت کی تبلیغ کرتے تھے سنگسار کئے گئے اور ان کے چند ہفتے بعد مولوی عبد الحلیم صاحب و ملا نور علی صاحب اسی جرم میں شہید کئے گئے ۔ یا د رکھنا چاہئے کہ دونوں الہاموں میں شہیدوں کا نام بکرے رکھا گیا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بکرا ایک بے ضرر جانور ہے اور اس میں شر کا مادہ بالکل نہیں ہوتا اس نام سے در حقیقت اللہ تعالٰی نے اس طرف اشارہ کیا ہے کہ یہ پانچوں قتل ناحق اور ظالمانہ ہوں گے اور صرف صداقت اور حق کیلئے بطور قربانی کے ان کی بھینٹ چڑھائی جائے گی ۔ ظالمانہ قتلوں کا نتیجہ ان ظالمانہ قتلوں کا نتیجہ یہ نکلا کہ پہلے تو امیر حبیب اللہ خان جنہوں نے صاحبزادہ عبداللطیف صاحب کو شہید کیا تھا اپنے ہی رشتہ داروں کی سازش سے قتل کئے گئے اور پھر امیر امان اللہ خان جنہوں نے مؤخر الذکر پیشگوئی کو پورا کیا تھا اور تین بے قصور احمدیوں کو ظالمانہ طور پر مروادیا تھا ایک بچہ سقہ کے ہاتھ سے کہ جو ایک معمولی سپاہی کی حیثیت رکھتا تھا اور صرف تین سو ہمراہیوں کے ساتھ کا بل پر حملہ آور ہوا تھا بُری طرح شکست کھا کر اپنا ملک چھوڑنے کیلئے مجبور ہوئے اور ایک طاقت ور بادشاہ ہونے کے باوجود توپوں اور گولہ بارود کے انباروں کے ہونے کے باوجود نسبتاً کمزور اور نہتی فوج کے ایک دستہ کے مقابلہ میں وہ اپنا تخت نہ سنبھال سکے اور بعد اس کے کہ یورپ کے ہر ملک میں اُن کا شاندار استقبال ہوا تھا، وہ ایک مسافر کی حیثیت میں اٹلی کے ایک گوشتہ تنہائی میں اپنی زندگی کے آخری دن گزارنے پر مجبور ہوئے ۔ تیسری پیشگوئی کو حبیب اللہ خان عرف بچہ سقہ کے ساتھ ابتدا ابتدا میں صرف تین سو سپاہی تھے لیکن امیر امان اللہ خان کے کابل چھوڑنے کے بعد اس کے گرد ایک بڑا لشکر جمع ہو گیا اور ادھر امیر امان اللہ خان نے بھی قندھار کا رخ کیا تا کہ وہاں کے قبائل کو جمع کر کے اپنی کھوئی ہوئی طاقت حاصل کریں۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ تمام ملک میں خانہ جنگی کی آگ پھیل گئی اور اس خانہ جنگی میں ہزاروں آدمیوں کا خون ہواحتی کہ عام طور پر ایک لاکھ آدمیوں کے مارے جانے کا اندازہ کیا جاتا ہے اور اس طرح ایک تیسری پیشگوئی حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی پوری ہوئی جس کے یہ الفاظ تھے کہ :۔ ریاست کا بل میں قریب پچاسی ہزار کے آدمی مریں گے، سے