انوارالعلوم (جلد 13) — Page 113
انوار العلوم جلد ۱۳ بر در ان کشمیر کے نام سلسلہ چہارم کا دوسرا خط ا۔ میرے ایک نمائندہ سے ریاست کے ایک ہند و وزیر نے گذشتہ سال یہ الفاظ کہے تھے کہ کیا آپ سمجھتے ہیں کہ ہم آپ کے خلاف کچھ نہیں کر سکتے ہمیں بھی پارٹیاں بنانی آتی ہیں اور ہم بھی ریاست میں آپ کے خلاف پارٹیاں بنوا سکتے ہیں ۔ بعض لوگ جو شیخ محمد عبد اللہ صاحب کے خلاف کوشش کر رہے ہیں، ان کی نسبت یقینی طور پر ثابت ہے کہ وہ اس وزیر سے خاص تعلقات رکھتے ہیں ۔ ۲ ۔ باہمی مناقشات دیر سے شروع تھے لیکن نہ حکومت نے ان پر سختی سے نوٹس لیا اور نہ شیخ محمد عبداللہ صاحب کو اس کا ذمہ وار بنایا۔ لیکن آل انڈیا کشمیر کمیٹی کے اس اجلاس کے بعد جس میں مسٹر مہتہ کے خلاف ریزولیوشن تھا، یکدم ریاست میں بھی ہلچل شروع ہوگئی اور بعض ریاست کے افراد نے باہر آ کر لوگوں کو اکسانا شروع کیا کہ کمیٹی کا احمدی صدر نہیں ہونا چاہئے اور ان ایجنٹوں میں سے ایک نے اپنے ایک ہم خیال لیڈر سے لاہور میں کہا کہ اگر آپ چاہیں تو میں پندرہ سولہ ہزار فوراً مہیا کر سکتا ہوں ۔ پھر اس نے کشمیر جا کر اپنے ایک دوست کو لکھا کہ میں لاہور میں آگ لگا آیا ہوں ۔ ۔ ا اب چاہئے کہ یہ آگ سلگتی رہے اور بجھے نہیں ۔ اس سے صاف ظاہر ہے کہ مسٹر مہتہ کے بعض ہوا خواہوں نے یہ کارروائی کی ہے ورنہ واقعات کا یہ اجتماع کس طرح ہوا ۔ آدمی وہی ہیں، حالات وہی ہیں، کام وہی ہے، پھر نتائج کیوں مختلف نکلنے لگے؟ ۔ میر واعظ یوسف شاہ صاحب کا تعلق ایسے لوگوں سے ہے جو اپنے آپ کو انتہا پسند ظاہر کرتے ہیں اور شیخ محمد عبد اللہ صاحب سے ان کو یہی اختلاف ہے کہ وہ اعتدال پسند ہیں لیکن باوجود اس کے ہندو اور سکھ صاحبان کی ایک خاصی تعداد میر واعظ یوسف شاہ صاحب کے جلوسوں میں شامل ہوتی رہی ہے اگر اختلاف حقیقی ہوتا تو چاہئے تھا کہ ہندو سکھ صاحبان شیخ محمد عبداللہ صاحب کے ساتھ ہوتے اور انتہا پسندوں کے مخالف ۔ ۴۔ حکومت اور دوسرے ذرائع سے جو بیانات گذشتہ فسادات کے متعلق اخبارات میں شائع ہوئے ہیں، ان سے معلوم ہوتا ہے کہ فسادات کی ابتداء شیخ محمد عبد اللہ صاحب کی طرف سے نہ تھی اور یہ کہ زیادتی بھی دوسرے فریق کی تھی۔ اس کا مزید ثبوت اس امر سے بھی ملتا ہے کہ حکومت نے شروع میں شیخ محمد عبد اللہ صاحب کو نہیں، بلکہ میر واعظ یوسف شاہ صاحب کو گرفتار کیا تھا لیکن عجیب بات یہ ہے کہ باوجود اس کے کہ یوسف شاہ صاحب کی پارٹی کی طرف سے ابتدا ہوئی اور باوجود اس کے کہ حکومت ابتداء کا ذمہ دار شیخ محمد عبد اللہ صاحب کو نہیں سمجھتی تھی، وہ ا الله