انوارالعلوم (جلد 13) — Page 106
انوار العلوم جلد ۱۳ ۱۰۶ پکارنے والے کی آواز مقام پر سے اس وقت جب کہ لوگ اسے نبیوں سے بھی افضل قرار دے رہے ہوتے ہیں، کلام الہی سے مشرف ہونے کا دعویٰ کرتا ہے اور یکدم اس کی حالت زار ہو جاتی ہے اور قوت عملیہ اس سے چھین لی جاتی ہے اور وہ حیران و پریشان رہ جاتا ہے۔ کیا یہ دونوں مثالیں اس امر کو واضح نہیں کر دیتیں کہ قرآن کریم کا یہ دعویٰ کہ غلط طور پر الہام الہی کا ادعا کرنے والا جب تک کہ وہ کسی شدید ا غلط نہی میں مبتلا نہ ہو ضرور سزا پاتا ہے اور اس کے مقابل پر خدا تعالیٰ کے سچے مامور ہمیشہ نصرت و تائید حاصل کرتے ہیں اور ہر قسم کی مخالفتوں کے باوجود ترقی کرتے چلے جاتے ہیں، نہایت سچا دعویٰ ہے۔ یہ ایک تازہ نشان ہے جو خدا تعالیٰ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام بانی سلسلہ احمد یہ کی صداقت ثابت کرنے کیلئے آسمان سے نازل کیا ہے ۔ اے کاش! کہ لوگ دیکھیں اور سنیں تا خدا تعالیٰ ان پر رحم کرے اور ان کی حالت بدل دے۔ سنو ! اے سننے والو!! آسمان کی آواز کوئی معمولی شے نہیں جس طرح بندے کے لئے یہ سب سے زیادہ فخر کی بات ہے کہ اس کا پیدا کرنے والا اسے یاد کرے اسی طرح اس کیلئے یہ سب سے زیادہ خطرہ کا مقام بھی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے کلام کو رد کر دے یا اس کی طرف سے بے پروائی کرے۔ پس ہوشیار ہوا اور غفلت کو چھوڑ دو اور اس آواز کو جو اس وقت کے لوگوں کے بیدار کرنے کیلئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نام پر اور اسلام کی تعلیم کو زندہ کرنے اور دنیا میں اس کو غالب کرنے کیلئے خدا تعالیٰ نے آسمان پر سے بلند کی ہے، سنوا اور قبول کرو۔ یا د رکھو کہ حق کے قبول کرنے میں ہر ساعت کی دیر ترقی اور کامیابی کے وقت کو پیچھے ڈال رہی ہے اور دشمنانِ اسلام کو تضحیک اور اہانت اسلام کا موقع دے رہی ہے ۔ آسمان پر سے خدا تعالیٰ تم کو بلا رہا ہے اور زمین پر تمہارے دل گواہی دے رہے ہیں کہ حقیقی اسلام اب تمہارے دل میں نہیں ہے اور اس کے پیدا کرنے کیلئے کسی بیرونی امداد کے تم محتاج ہو۔ پھر کیوں خدا تعالیٰ کی آواز کو تم نہیں سنتے ؟ کیوں اپنے دلوں کی حالت ہی کو نہیں دیکھتے؟ کیا زمین پر تمہارے اپنے دلوں کی شہادت اور آسمان پر خدا تعالیٰ کے فیصلے کی شہادت سے بڑھ کر بھی اور کوئی شہادت ہو سکتی ہے؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ خدا تعالیٰ پر جھوٹ بولنے والے وہ نصرت پا سکتے ہیں جو بانی سلسلہ احمدیہ نے پائی ؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ ایک مفتری کی جماعت کو اسلام کی خدمت کا وہی جوش عطا ہو سکتا ہے۔ جو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جماعت کو نصیب ہوا ؟ کیا تم سمجھتے ہو کہ اشاعتِ اسلام کے کام میں ایک کذاب کا ساتھ دینے والے ویسی ہی